بلوچستان میں کینسر کے 5 ہزار 145 کیسز کی تصدیق،نئی تحقیق میں اہم انکشافات

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے)بلوچستان میں کینسر کے کیسز میں اضافے سے متعلق نئی تحقیق میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ آغا خان ہسپتال اور آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوئٹہ کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں بلوچستان سے حاصل کیے گئے 16 ہزار 342 بائیوپسی نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق ان نمونوں میں سے 5 ہزار 145 میں کینسر کی تصدیق ہوئی۔ کینسر کے مریضوں میں 52 فیصد مرد جبکہ 48 فیصد خواتین شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق بلوچستان کے مردوں میں غذائی نالی کا کینسر سب سے زیادہ رپورٹ ہوا۔ بالغ مردوں میں غذائی نالی کے کینسر کے 425 کیسز سامنے آئے، جو بالغ مردوں کے مجموعی کینسر کیسز کا 17.4 فیصد ہیں۔
مردوں میں معدے کا کینسر 351 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ بڑی آنت، ریکٹم اور مقعد کے کینسر کے 225 کیسز رپورٹ ہوئے۔ تحقیق میں مثانے کے کینسر کے 223 کیسز بھی سامنے آئے۔
محققین کے مطابق بلوچستان میں مردوں میں غذائی نالی کا کینسر منہ کے کینسر سے تقریباً چار گنا زیادہ پایا گیا، جو دیگر علاقوں کے مقابلے میں ایک مختلف رجحان ہے۔ قومی اور دیگر علاقائی اعدادوشمار میں عام طور پر مردوں میں منہ کا کینسر زیادہ عام رپورٹ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بلوچستان کی خواتین میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ عام کینسر قرار پایا۔ خواتین میں بریسٹ کینسر کے 526 کیسز رپورٹ ہوئے۔
خواتین میں غذائی نالی کا کینسر 434 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ بڑی آنت، ریکٹم اور مقعد کے کینسر کے 125 کیسز سامنے آئے۔اسی طرح خواتین میں منہ کے کینسر کے 113 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کینسر کے مجموعی کیسز میں بچوں اور نوعمروں کا حصہ 7 فیصد رہا۔ اس عمر کے گروپ میں دماغی رسولیاں نمایاں تعداد میں رپورٹ ہوئیں۔
محققین نے بلوچستان میں کینسر کے مختلف رجحانات کے ممکنہ عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق محفوظ، نمکین اور خشک غذاؤں کا زیادہ استعمال ممکنہ خطرات میں شامل ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال، ماحولیاتی عوامل اور افیون کا استعمال بھی ممکنہ عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ عوامل کینسر کی حتمی وجوہات ثابت نہیں ہوئے اور ان کے کردار کی مزید تحقیق ضروری ہے۔
تحقیق میں پاکستان میں جامع قومی کینسر رجسٹری کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے باعث ملک اور بالخصوص بلوچستان میں کینسر کے حقیقی پھیلاؤ اور رجحانات کا مکمل جائزہ لینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
محققین نے بلوچستان میں کینسر کے بہتر ریکارڈ مرتب کرنے اور مزید تحقیق کی سفارش کی ہے۔ تحقیق میں کلینیکل، ریڈیولوجیکل اور پیتھالوجی ڈیٹا کو یکجا کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ بلوچستان میں کینسر کے رجحانات، ممکنہ خطرات اور علاج سے متعلق زیادہ جامع معلومات حاصل کی جاسکیں۔



