بھارت کا پراپیگنڈا ٹھس،نارووال کے تاریخی مندرکو نقصان پہنچنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے) نارووال کے مضافات میں واقع ایک قدیم ہندو مندر حالیہ دنوں میں ملکی و غیر ملکی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سراج گاؤں میں موجود تقریباً 125 سال پرانے ہندو مندر کی عمارت کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کی وجہ سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے، جبکہ پاکستانی حکام نے مندر کو جان بوجھ کر مسمار کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے شدید بارشوں کو عمارت کے متاثر ہونے کی وجہ قرار دیا ہے۔

تاریخی مندر کہاں واقع ہے؟

یہ تاریخی ہندو مندر سراج گاؤں، نارووال کے مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔ ایویکی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے مطابق مندر کی عمر تقریباً 125 سال ہے۔4 ستمبر 2026 کو ای ٹی پی بی کے سیکریٹری و ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق، پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور ڈپٹی کمشنر نارووال طیب خان نے مندر کا دورہ کیا اور موقع پر موجود شواہد اور عمارت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔مندر کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے سرکاری مؤقف کے مطابق عمارت کا ایک حصہ حالیہ شدید اور طوفانی بارشوں کے باعث منہدم ہوا۔

بھارت کا ردعمل

واقعے پر بھارت نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی نے نارووال کے سراج گاؤں میں تاریخی ہندو مندر کی مبینہ تباہی کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تاہم بھارتی بیان کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی دعوؤں کو غلط اور سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مندر کی عمارت 21 جولائی کو شدید بارشوں کے باعث متاثر ہوئی تھی اور مقامی حکام نقصان کا جائزہ لے کر بحالی کے اقدامات شروع کرچکے ہیں۔

پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب، ہندو مندر گرانے کا الزام جھوٹا اور سیاسی پروپیگنڈا قرار

پاکستان میں مندر کی بحالی کا فیصلہ

تنازع کے دوران پنجاب حکومت اور ای ٹی پی بی نے تاریخی مندر کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے متعلقہ حکام کے ہمراہ مندر کا دورہ کیا اور اس کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا۔ای ٹی پی بی کے مطابق صوبائی حکومت کے تعاون سے تاریخی مندر کی بحالی، مرمت، تزئین و آرائش اور خوبصورتی کے لیے باقاعدہ کام شروع کیا جائے گا۔ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق نے صوبائی وزیر کو مندر کی بحالی اور مرمت کے کام کو قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کرنے کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

’’تمام مذاہب کی عبادت گاہیں قابل احترام ہیں‘‘

رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہیں قابل احترام ہیں اور مذہبی مقامات کا تحفظ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخی مذہبی مقامات ملک کی مشترکہ ثقافتی اور تاریخی میراث ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔صوبائی وزیر کے مطابق پنجاب میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

نارووال میں ہندو برادری کی موجودگی

نارووال میں ہندو برادری کی موجودگی بھی اس معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ضلع نارووال کی تین تحصیلوں نارووال، شکرگڑھ اور ظفروال میں ہندو خاندان آباد ہیں۔نارووال تحصیل کے گھوٹہ فتح گڑھ، بٹھانوالہ، بدومالی، احمد آباد، ملوک پور، علی پور اور اورنگ آباد سمیت مختلف علاقوں میں ہندو خاندان رہائش پذیر ہیں۔شکرگڑھ تحصیل میں بیریاں، سنگراں، سکھوچک، رائے با مور، بازار، اخلاص پور،بھیری خورد، جساد اور علی آباد سمیت مختلف علاقوں میں ہندو خاندان آباد ہیں۔اسی طرح ظفروال تحصیل کے لالہ، سنکھترا، سنگیال، دودھوچک، درمن، کوٹ باوا، بڑا پنڈ، جرپال اور جاتوال سمیت مختلف علاقوں میں بھی ہندو خاندان رہتے ہیں۔دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع نارووال میں تقریباً 1,253 ہندو افراد آباد ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button