کراچی کے وائرل واقعے کا بڑا ڈراپ سین، متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے اور ایس ایس پی سمیت افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) کراچی میں پیش آنے والے ایک وائرل واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے مکمل کی گئی انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانواری کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ نے انکوائری رپورٹ آئی جی سندھ کو ارسال کردی ہے، جس میں متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمے کو فوری طور پر جھوٹا قرار دے کر ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ابتدائی ایف آئی آر مریم نامی خاتون کی مدعیت میں متاثرہ خاندان کے خلاف درج کی گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مریم ایس ایس پی جانواری کی قریبی رشتہ دار ہیں۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ خاتون نے کورنگی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں متاثرہ افراد پر حملہ کیا۔

تاہم اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متاثرہ خاندان کے خلاف عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹی گیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقدمے کو ’’بی کلاس‘‘ میں ختم کیا جائے۔

انکوائری رپورٹ میں مریم، ان کے بیٹے اور بیٹی سمیت واقعے کے وقت موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں ایس ایچ او درخشاں انسپکٹر راشد علی، اے ایس آئی آفتاب منگی، انویسٹی گیشن آفیسر ایس آئی پی عمران اور چار کانسٹیبلز کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ان اہلکاروں پر غیر قانونی گرفتاری، سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ اور جانبداری برتنے سے متعلق الزامات انکوائری میں زیرِ بحث آئے ہیں۔

انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد کراچی پولیس کے اس وائرل واقعے نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جبکہ اب سفارشات پر حتمی کارروائی آئی جی سندھ اور متعلقہ حکام کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button