پاکستان میں سالانہ 4 لاکھ بچے 5 سال کی عمر سے پہلے جاں بحق ہوتے ہیں، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بچوں اور ماؤں کی اموات کے سنگین اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے ایک سے 5 سال کی عمر کے دوران جان سے محروم ہوجاتے ہیں، یعنی روزانہ تقریباً 1300 بچے موت کا شکار ہوتے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق ہر سال 4 لاکھ بچوں کی اموات ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور پاکستان کا شمار دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی بلند شرحِ اموات والے ممالک میں ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بچوں کی اموات میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں مؤثر طبی اقدامات اور بہتر صحت کے نظام کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان بچوں کی بات کررہے ہیں جن کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کا دکھ ہے، اس لیے بنیادی صحت کے نظام میں مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے دورانِ حمل ماؤں کی اموات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں حمل یا اس سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

حالیہ سانحات اور بچوں کی اموات پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ جاں بحق بچوں کو کوئی واپس نہیں لاسکتا۔ والدین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر عطا فرمائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو صرف سانحہ سمجھ کر آگے بڑھنے کے بجائے نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کرنی ہوگی تاکہ آئندہ کسی بچے کی جان بچائی جاسکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف افسوس اور تعزیت سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ پارلیمان اور حکومت کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے اگلے بچے کو مرنے سے بچایا جاسکے۔

پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں مسلسل شریک رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریکارڈ سے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر کسی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو نظرانداز نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سامنے تمام معلومات رکھنے کے لیے تیار ہیں اور کسی معاملے کو چھپایا نہیں جائے گا۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق بچوں اور ماؤں کی اموات کا مسئلہ کسی ایک ہسپتال یا واقعے تک محدود نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کی کارکردگی کا سوال ہے، جس کے حل کے لیے حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button