سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا۔
رجسٹرار آفس کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جاسکتی ہیں۔
27ویں آئینی ترمیم کو جسٹس (ر) شبر رضا رضوی نے چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کا آئین قانون ساز اسمبلی نے تشکیل دیا تھا اور 1973 کے آئین میں سپریم کورٹ کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دیا گیا تھا، جبکہ موجودہ اسمبلی کسی صورت دستور ساز اسمبلی نہیں ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے بنیادی خدوخال تبدیل نہیں کیے جاسکتے، اسلامی ریاست میں کسی فرد کو تاحیات استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا، جبکہ عدلیہ کی آزادی کا براہ راست تعلق ججز کی تعیناتی سے ہے۔
درخواست گزار کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ 27ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دیے گئے تاحیات استثنیٰ کو بھی ختم کیا جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس اس سے قبل بھی 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک درخواست وصول کرنے سے انکار کرچکا ہے۔



