ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی حملہ آج شروع ہوگا، امریکی وزیر خزانہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف آج سے فیصلہ کن اقتصادی کارروائی شروع کی جائے گی، جو کسی دشمن کے خلاف امریکا کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔
سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکا آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کیں اور ایرانی جوہری پروگرام کو بھی دفن کردیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق واشنگٹن کا مقصد ایرانی حکومت کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے تاکہ تہران کو مکمل طور پر تنہا کیا جاسکے۔ ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک بھی امریکی اقدامات کی زد میں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں جن میں امریکی حکومت اپنے تمام قانونی اختیارات اور دستیاب صلاحیتوں کو استعمال کرسکتی ہے، جبکہ وہ اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔
سکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ ایران کئی برسوں سے سکیورٹی ضمانتوں کے لیے دباؤ ڈال کر اپنے نظام کو برقرار رکھتا آیا ہے، تاہم ٹرمپ کی صدارت میں یہ دور ختم ہوچکا ہے۔
ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی، جن کا مقصد ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔



