پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن اتحاد بنانےکا اعلان،سڑکوں پر آنے کا عندیہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن اتحاد کا پہلا اہم اجلاس ہوا، جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن اتحاد کے قیام کا اعلان کیا گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی جبکہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر، خیبرپختونخوا تحریک انصاف کے صدر جبید اکبر، اسد قیصر، سینیٹر دلاور، شاہد خٹک شریک ہوئے۔
اجلاس میں جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ، مولانا عبد الواسع نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان اجلاس میں تشریف لائے تھے جس پر میں اُن کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے پارلیمنٹ میں ایک جوائنٹ اپوزیشن قائم کی جائے، جس کا مقصد اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں موثر اقدامات اٹھانا ہوگا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہے اور دو صوبے حالت جنگ میں ہے، حکومتی رٹ چیلنج ہورہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے صرف تسلیاں دی جارہی ہے، کتنے آپریشنز ہوئے لیکن ہمیں مقاصد نظر نہیں آرہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی ہماری یہی گفتگو تھی آج بھی وہی ہے، مگر حالات میں تبدیلی نہیں آرہی، قبائلی علاقوں کے تاجر بری طرح متاثرہے، ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت و کاروبار کے مواقع موجود نہیں، چین ناراض ہے ہم نے انکے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو صوبے کا غلط بیانیہ دیا جارہا ہے، صوبوں کیلئے کوئی تیاری نہیں جبکہ ملک میں اس وقت آگ لگی ہوئی ہے اور آپ گھر کو تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آگ ہو اور صوبے بن جائیں۔
مولانا نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کی طرف سے اپنا موقف قوم تک پہنچائیں گے، ہمارا اتفاق ہوگیا دونوں جماعتوں کے قائدین پارٹی سے مشاورت کریں گے اور پھر ہم اگلے اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کوئی بھی ملک قانون کے ںغیر چلے تو اسے جنگل کہا جاتا ہے، آج سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی نگاہوں میں سپریم کورٹ کے آرڈر کی کیا حیثیت ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ کہیں سے تو اٹھ کر انکی راہیں روکنی ہوں گی، خیبرپختونخوا میں بدامنی کو پھیلایا جارہا ہے اور اب یہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ یہ سسٹم کولیپس کرچکا ہے، اب آپکو کوئی حق نہیں ہم پر حکمرانی کریں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج سینیٹ و اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کا اعلان کررہے ہیں، ہم قوم کے سامنے عوام کا بیانیہ رکھیں گے۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا نے اہم ترین قدم اٹھایا کیونکہ ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اپوزیشن ملکر چلیں، جبر سے صوبے نہیں بنائے جائیں گے، ڈاکٹر عشرت حسین ہوں یا کوئی تھنکر، سب کہہ رہے ہیں سب کو لیکر فیصلے کرو۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم پارلیمان کے اندر اکٹھے ہورہے ہیں، اگلا مرحلہ ملک کی سڑکوں پر اپوزیشن اتحاد ہوگا۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے جتنے بھی قیدی ہیں اُن کو رہا کیا جائے، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کر کے بتادیا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے، صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کو قائم کرنا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، ہم جب یہ بات کرتے ہیں تو یہ لوگ ڈر جاتے ہیں، پاکستان کو بچانا عوام کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے مگر اس کو اکھاڑا جارہا ہے، کہا جارہا ہے ہماری حمایت کرو باقی جوکرنا ہے آپ فری ہیںڈ ہے مگر ہماری نظر میں پاکستان سے بڑھ کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جو برباد کرگا ہم اُس میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے، ہمیں مجبور نہ کریں کہ عالمی عدالتوں کی طرف جائیں، وسائل پر قبضہ کیا گیا تو میں خود بین الاقوامی عدالت جاؤں گا۔



