تھرپارکر میں گھروں اور پلاٹوں پر مبینہ قبضے کا الزام، میگھواڑ خاندانوں کا انتظامیہ سے انصاف کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) مٹھی کے قریب گاؤں پاپوہر کے باروپار محلے میں کئی سال سے رہائش پذیر میگھواڑ برادری کے خاندانوں نے اپنے پلاٹوں اور گھروں پر مبینہ قبضے اور گھر مسمار کیے جانے کے خلاف انتظامیہ سے تحفظ اور انصاف کی اپیل کردی۔

متاثرین بھاگو ولد رانو، شنکر سومون مل، نگجی جھامن، سوائی سونو اور دیگر نے الزام عائد کیا ہے کہ تپیدار توگجی کے بھائی رائسنگھ، مگھجی سوڈھا، بچائی سنگھ اور دیگر راواڻي ٹھاکر برادری کے افراد نے ان کے گھروں کے قریب مویشیوں کا باڑا قائم کرکے مبینہ طور پر ان کے پلاٹوں پر قبضہ کرلیا اور آمدورفت کے راستے بھی بند کردیئے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ میگھواڑ اور ٹھاکر برادری کے محلے الگ الگ ہیں، تاہم بعض افراد نے مبینہ طور پر ان کے گھروں کے درمیان تعمیرات کرکے ان کی جانب سے بنایا گیا واش روم بھی مسمار کردیا، جس کے باعث علاقے میں خوف اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

متاثرین کے مطابق وہ کئی سال سے مذکورہ مقام پر رہائش پذیر ہیں اور گھروں و جائیداد سے متعلق تنازع کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔

میگھواڑ برادری کے متاثرہ خاندانوں نے سندھ حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ قبضے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے اپیل کی کہ ان کے گھروں اور پلاٹوں سے متعلق حقوق کا قانون کے مطابق تعین کرتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ معاملے کا منصفانہ حل نکالا جا سکے اور کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

مزید خبریں

Back to top button