حکومت،اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دال میں کچھ کالاہے،مسلم لیگ ن کیساتھ تعاون نہیں کریں گے،بلاول بھٹو نےحکومت کو بڑاچیلنج دیدیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پر بڑا سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں، پھر وہ غلط ثابت ہوں گے، تاہم اگر پس پردہ کچھ چل رہا ہے تو وقت کے ساتھ حقیقت سامنے آ جائے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بطور سیاست دان ان کا خیال ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہوسکتے ہیں، تاہم ’’دال میں کچھ کالا ہے اور مجھے نہیں معلوم وہ کیا ہے، لیکن کچھ تو ہے‘‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی کسی بھی معاملے میں زبردستی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ نئے صوبوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جس اقدام پر عوام اور سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے ہوگا، پیپلزپارٹی اس کا ساتھ دے گی۔ ان کے مطابق کئی علاقے طویل عرصے سے اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی رائے کا احترام ہونا چاہیے۔

ن لیگ کو بڑا پیغام، تعاون بند رکھنے کا اعلان

بلاول بھٹو نے حکومت کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کوآرڈینیشن اور قانون سازی میں تعاون اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک پیپلزپارٹی کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد میں آنے والی قانون سازی کی حمایت ضرور کی جائے گی، لیکن محض حکومتی ایجنڈے کے لیے تعاون نہیں کیا جائے گا۔

’’ان ہاؤس تبدیلی ایجنڈا نہیں‘‘

پیپلزپارٹی چیئرمین نے کہا کہ ان کی توجہ ان ہاؤس تبدیلی پر نہیں بلکہ پارلیمان کے کردار کو مضبوط بنانے پر ہے۔ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومتی بینچز سے بھی شکایات سامنے آتی ہیں، اس لیے انتخابی عمل پر اٹھنے والے اعتراضات دور کرنا ضروری ہے۔

عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم بہتر ہوتا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی قدم اٹھاتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کسی کی بیماری کو سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہتی۔

آزاد کشمیر میں متنازع انتخابات، حکومت کو سخت تنقید

بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں غیر متنازع انتخابات ہونے چاہئیں تھے۔ ان کے مطابق بھمبر، میرپور اور پونچھ سمیت مختلف علاقوں میں امن و امان کے خدشات موجود تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدواروں اور کارکنوں پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔

بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ اگر متنازع انتخابات کے بعد متنازع حکومت قائم کرنی ہے تو یہ مسلم لیگ (ن) کو مبارک ہو، تاہم انہیں ایسا کوئی موقع نظر نہیں آتا جس سے کشمیر کی جمہوری روایات اور پارلیمان مضبوط ہوسکے۔

’’آج نہیں تو کل راز کھل جائے گا‘‘

بلاول بھٹو کے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات سے متعلق بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے بقول اگر واقعی سب کچھ ٹھیک ہے تو حکومت پُراعتماد رہے، لیکن اگر دال میں کچھ کالا ہے تو آج نہیں تو کل وہ سامنے آ جائے گا۔

انہوں نے حکومت کو یہ بھی پیشکش کی کہ اگر رابطہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم انصاف اور اپنے تحفظات دور ہونے تک حکومتی تعاون بحال نہیں کیا جائے گا۔

کشمیر میں ’’ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن‘‘ کا مطالبہ

بلاول بھٹو نے کشمیر کے موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کمیشن کا مقصد معاشرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو بات چیت کا راستہ دینا ہے تاکہ بے گناہ کو حق ملے اور قصوروار کو سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کے قیام تک احتجاج کرنے والے پرامن طور پر گھروں کو جائیں جبکہ حکومت بھی اس بات کی ضمانت دے کہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف غیرضروری کارروائی نہیں ہوگی۔بلاول بھٹو کے مطابق اسی راستے سے حالات معمول پر لائے جا سکتے ہیں اور جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button