یو اے ای میں پاکستانیوں سے مبینہ ناروا سلوک پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ،خواجہ آصف کا دوٹوک جواب

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے): ایران امریکا کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کو مبینہ مشکلات، ویزوں کی تجدید میں رکاوٹ اور نامناسب سلوک کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا، جہاں اپوزیشن نے حکومت سے فوری طور پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے نکتہ اعتراض پر یو اے ای میں پاکستانیوں کو درپیش مبینہ مشکلات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا دوست ملک ہے، تاہم امریکا اور ایران کی صورتحال کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کچھ تحفظات ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جن پاکستانیوں کے یو اے ای کے ویزے ایکسپائر ہوگئے ہیں، ان کی تجدید نہیں کی جارہی، اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔

"دوست ملک ہے، مگر پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟”

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ہمارا برادر ملک ہے اور اس کی ترقی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔

ان کے مطابق ایران پر حملے کے وقت وہ سفر میں تھے اور وہاں پاکستانیوں کے ساتھ رویہ مناسب نہیں تھا۔ اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ بعض حالات میں صرف بھارت اور امریکا کے پاسپورٹ رکھنے والوں کو سفر کی اجازت دی جارہی تھی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی قوم یو اے ای کی ترقی چاہتی ہے، تاہم پاکستانی شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعات کا معاملہ اماراتی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے۔

خواجہ آصف کا اپوزیشن کو کرارا جواب

معاملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی ملک میں رہتے ہوئے اسی ملک کے خلاف فریق بنے گا تو اس ملک کی جانب سے ردعمل سامنے آنا فطری ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا:

"جب آپ کسی ملک میں رہ کر اسی کے خلاف فریق بنیں گے تو وہ ردعمل تو دے گا۔”ان کے اس بیان نے قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران سیاسی بحث کو مزید گرم کردیا۔

مکہ امن معاہدے پر پارلیمان کو بریفنگ کا اعلان

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ مکہ امن معاہدے سے متعلق جو چیزیں سامنے لائی جاسکتی ہیں، ان پر پارلیمان کو بریفنگ دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مکہ امن معاہدے پر تیاری کریں گے اور اگلے روز ایوان کو اس معاملے پر بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔

خواجہ آصف، محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کی مشاورت

قومی اسمبلی اجلاس کے بعد ایک اہم سیاسی منظر بھی دیکھنے میں آیا جب خواجہ آصف اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی نشست پر پہنچ گئے۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان مشاورت ہوئی، جبکہ بیرسٹر گوہر بھی گفتگو میں شریک رہے۔ اس غیر معمولی مشاورت نے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات کو جنم دے دیا۔

بونیر،دہشت گردی اور میڈیکل طلبہ کا معاملہ بھی ایوان میں گونج اٹھا

بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی سیر حاصل بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی جاری رہے گی تو ملک میں ترقی نہیں ہوسکے گی۔

انہوں نے بونیر کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیکل اسٹڈیز کے لیے بیرون ملک جانے والے طلبہ کے پی ایم ڈی سی ٹیسٹ کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ موجودہ صورتحال بچوں کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

اب اصل سوال کیا ہے؟

ایران امریکا کشیدگی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے ویزوں، سفر اور مبینہ ناروا سلوک کا معاملہ اب پارلیمان کے ایوان تک پہنچ چکا ہے۔

حکومت کی جانب سے معاملے پر مزید وضاحت اور پارلیمانی بریفنگ متوقع ہے، جبکہ اپوزیشن نے پاکستانی شہریوں کے مسائل فوری طور پر اماراتی حکام کے ساتھ اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

دوست ملک کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ، مگر پاکستانیوں کے ویزے، سفر اور مبینہ ناروا سلوک کا معاملہ اب سیاسی محاذ پر بھی گرم ہوگیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button