پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری، 82 فیصد شہریوں کا مسلح افواج پر اعتماد

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) مشعل پاکستان نے پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کردی، جس میں ریاستی و حکومتی سطح پر شفافیت، احتساب، اداروں پر عوامی اعتماد اور معلومات کے ذرائع سے متعلق شہریوں کی رائے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے 2 ہزار افراد کی رائے حاصل کی گئی۔ سروے میں 45 فیصد افراد کی عمر 18 سے 25 سال، 35 فیصد کی عمر 26 سے 35 سال تھی، جبکہ تعلیمی اعتبار سے 67 فیصد گریجویٹس، 32 فیصد ماسٹرز اور ایک فیصد پی ایچ ڈی افراد شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں احتساب کا جامع نظام موجود ہے جبکہ شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں میں قوانین نافذ ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹس کی بنیاد پر اداروں اور محکموں کا احتساب کرتی ہے۔
مشعل پاکستان کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنے 29 ذیلی دفاتر کے ذریعے 683 آڈٹس مکمل کیے، جن کے دوران 224 ارب روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر، نیپرا، نیب، آڈیٹر جنرل پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو باقاعدگی سے سالانہ کارکردگی رپورٹس جاری کرنے والے نمایاں اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔
معلومات کا بڑا ذریعہ سوشل میڈیا
رپورٹ کے مطابق 25 فیصد رائے دہندگان نے فیس بک اور 20 فیصد نے واٹس ایپ کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا، جبکہ 15 فیصد افراد ٹی وی سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ کسی بھی رائے دہندہ نے اخبار کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار نہیں دیا۔
تاہم 58 فیصد رائے دہندگان نے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا۔
اعتماد کے حوالے سے 46 فیصد افراد نے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر، 53 فیصد نے معاشرے کے دیگر افراد پر، 63 فیصد نے واقف لوگوں جبکہ 52 فیصد نے اجنبی افراد پر اعتماد کا اظہار کیا۔
اداروں پر عوامی اعتماد کی شرح
رپورٹ کے مطابق
82 فیصد افراد نے ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مسلح افواج پر اعتماد کا اظہار کیا۔
43 فیصد نے پالیسی سازوں کی قابلیت پر اعتماد کیا۔
40 فیصد نے اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد ظاہر کیا۔
39 فیصد نے پولیس میں اصلاحاتی عمل پر اعتماد کیا۔
34 فیصد نے پارلیمنٹ کی مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کی کوششوں پر اعتماد کیا۔
34 فیصد نے پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوششوں پر اعتماد ظاہر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 52 فیصد رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ حکومت طویل المدتی وژن کے مطابق کام کر رہی ہے، جبکہ 36 فیصد کے خیال میں عوامی رائے حکومتی اقدامات پر اثرانداز ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے بھی مثبت رائے
ریگولیٹری اداروں سے آگاہی کے حوالے سے 90 فیصد رائے دہندگان پی ٹی اے کے کردار، 95 فیصد ایف بی آر اور 90 فیصد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کردار سے واقف نکلے۔
رپورٹ کے مطابق 52 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ای گورننس پلیٹ فارمز عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنا رہے ہیں، جبکہ 54 فیصد کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اسی طرح 52 فیصد رائے دہندگان پاکستان کی طویل المدتی سمت کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
مشعل پاکستان اس سے قبل پاکستان ریفارمز رپورٹ اور پاکستان فریڈم رپورٹ بھی جاری کر چکا ہے۔



