سابق شامی صدر بشار الاسد کو جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت

دمشق (جانوڈاٹ پی کے) شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد، ان کے بھائی ماہر الاسد اور سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنا دی۔

امریکی میڈیا کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ منگل کے روز سنایا۔ بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی، جبکہ مقدمے میں سابق سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق مقدمہ شام میں 2011 سے جاری رہنے والے طویل تنازع سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی۔

عدالت نے عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2011 میں جنوبی صوبے درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی کی قیادت کی تھی۔ یہی واقعات بعد ازاں ملک گیر بغاوت اور طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئے۔

عاطف نجیب بشار الاسد دور میں درعا کی سیاسی سکیورٹی برانچ کے سربراہ اور فوج میں بریگیڈیئر جنرل رہ چکے ہیں۔ گرفتاری کے بعد وہ سابق حکومت کے ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل ہوئے جنہیں عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران عاطف نجیب کو سخت سکیورٹی میں قیدیوں کے لباس میں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔

دوسری جانب بشار الاسد اور ماہر الاسد دسمبر 2024 میں باغی جنگجوؤں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد شام سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک بعد ازاں ایک خونریز جنگ میں تبدیل ہوگئی، جس میں لاکھوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

مزید خبریں

Back to top button