حیدرآباد میں میگھواڑ طلبہ کے لیے 6 کروڑ روپے کی لاگت سے ہاسٹل کا افتتاح، تعمیراتی کام شروع

تھرپارکر/حیدرآباد(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) میگھواڑ یوتھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جدوجہد رنگ لے آئی، حیدرآباد میں غریب اور مستحق میگھواڑ طلبہ کے لیے رہائشی سہولت فراہم کرنے کے اہم منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا، جبکہ ہاسٹل کی تعمیراتی کام بھی شروع ہوگیا ہے۔ صادق لیوانہ، حیدرآباد میں میگھواڑ طلبہ کے لیے ہاسٹل کی تعمیر کا افتتاح اسپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر سندھ برائے منارٹی افیئرز ڈاکٹر شام سندر آڈوانی اور ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل جیون نے کیا۔ منصوبے کے لیے منارٹی افیئرز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 6 کروڑ روپے کا سرکاری فنڈ منظور کیا گیا ہے۔ میگھواڑ یوتھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور برادری کے تعلیم دوست افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تقریباً 2 کروڑ روپے کی لاگت سے پلاٹ خریدا، جس کے بعد حیدرآباد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے، بالخصوص غریب اور مستحق میگھواڑ طلبہ کے لیے ہاسٹل کی تعمیر کی خاطر سرکاری فنڈ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اس سلسلے میں میگھواڑ برادری کے نمائندوں نے ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل جیون سے رابطہ کیا، جس کے بعد انہوں نے منارٹی افیئرز ڈپارٹمنٹ سے فنڈ کی منظوری کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر شام سندر آڈوانی کی کوششوں سے ہاسٹل کی تعمیر کے لیے 6 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی گئی۔ افتتاحی تقریب میں میگھواڑ برادری کی سپریم کونسل کے اراکین، سماجی رہنماؤں، وکلا، ڈاکٹروں، انجینئرز، اساتذہ اور دیگر معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز گائتری منتر سے کیا گیا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا، جبکہ صوفی نارائن داس نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وائی پیش کی۔ وکیل منو مل کی جانب سے پرارتھنا بھی کروائی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شام سندر آڈوانی نے کہا کہ سندھ میں میگھواڑ برادری کے نوجوان ذہین، محنتی اور تعلیم کی طرف راغب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منارٹی افیئرز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے میرٹ کی بنیاد پر دی جانے والی اسکالرشپس میں بھی بڑی تعداد میں میگھواڑ طلبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے میگھواڑ یوتھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادری کے افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرکے پلاٹ خریدا، جو اجتماعی تعلیمی سوچ اور سماجی ذمہ داری کی بہترین مثال ہے۔ ڈاکٹر شام سندر آڈوانی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے وژن کے تحت اقلیتی برادری کے غریب اور مستحق طلبہ کے لیے حیدرآباد میں ہاسٹل کی تعمیر کے لیے فنڈ فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سونو کنگھارانی نے میگھواڑ برادری کی تاریخ اور جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے ہاسٹل کے منصوبے کو برادری کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔ میگھواڑ یوتھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جوڌو مل نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ برادری کے باہمی تعاون سے پلاٹ خریدا گیا اور اب منارٹی افیئرز ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے ہاسٹل کی تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی میگھواڑ برادری کی اجتماعی سوچ، چندہ، سماجی ذمہ داری اور تعلیم سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ پلاٹ کی خریداری سے لے کر سرکاری فنڈ کی منظوری اور اب تعمیراتی کام کے آغاز تک برادری کے افراد نے مسلسل جدوجہد کی۔ تقریب میں ڈاکٹر شام سندر آڈوانی اور ڈاکٹر کھٹومل جیون کی جانب سے منصوبے کے لیے کیے گئے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ منصوبہ محض ایک عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ میگھواڑ نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ایک اہم قدم ہے۔ حیدرآباد میں سندھ کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے طلبہ کو مناسب، محفوظ اور کم خرچ رہائش کی سہولت میسر آنے سے بالخصوص غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی شناخت کے طور پر لونگیاں اور شالیں پیش کی گئیں۔ میگھواڑ یوتھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے چیئرمین ڈاکٹر جوڌو مل نے ڈاکٹر شام سندر آڈوانی کو شیلڈ پیش کی، جبکہ ڈاکٹر سونو کنگھارانی نے ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل جیون کو شیلڈ پیش کی۔ تقریب میں ڈاکٹر ہرجي رام، دامرو مل، وینجھراج، وکیل ہیمن داس، وکیل ہیرالال میگھواڑ، شیلا واڌو مل، انجینئر واڌو مل، بھٹیو مل، سنیل کمار، وکیل منو مل، ڈاکٹر دلیپ کمار دھارانی، ملجي مل، میوا رام ساقی، وکیل ارجن داس، وکیل شیوک راٹھوڑ، ماسٹر واڌو مل، دولت رام اگرانی، دیال داس تپیدار، ڈاکٹر شنکر لال، جموں کامریڈ، ڈاکٹر لیکھراج سارنگانی، چیتن مل ٹنڈو جام، ڈاکٹر ہرچند مٹھی، ڈاکٹر جیرام ٹنڈو محمد خان، آکاش کمار، خوشحال داس، انجینئر سنجے راجا، غلام اکبر لک، اشوک کمار، زاہد علی خاصخیلی، وجیش کمار، منو مل کسٹم اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔



