تھرپارکر میں جنات نکالنے اور تعویذ گنڈوں کے نام پرفراڈ،شہریوں کا کارروائی کامطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں مبینہ بھوپا گیری، جنات نکالنے کے نام پر لوگوں کو خوفزدہ کرنے، تعویذ گنڈوں اور توہم پرستی کے کاروبار کے خلاف شہریوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بعض افراد خود کو بھوپا، بھگت یا جنات نکالنے والا ظاہر کرکے سادہ لوح لوگوں کے خوف اور عقیدے کا مبینہ فائدہ اٹھاتے ہوئے رقم وصول کر رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق مٹھی شہر سمیت مختلف علاقوں میں گھروں کے سامنے دیے جلانے، چوراہوں پر تیل ڈالنے اور مختلف رسومات کے ذریعے لوگوں میں خوف اور وہم پیدا کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ شکایات کے مطابق بعض مقامات پر جنات نکالنے کے بہانے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا رویہ اختیار کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے خاموش رہنے پر مجبور ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق ڈیپلو میں مہاوجی کولہی، ویڑھیجپ میں خمیسو کوکر اور رامجی کوکر، کپوسر میں ساھو بھیل، پابوہر میں سریا چارن، جار جو پتن میں ایک کولہی، گاؤں ٹوہ سے گاگن، تنومل اور نندلال، جبکہ کلوئی میں شنکر میگھواڑ سمیت متعدد افراد پر بھوپا گیری سے متعلق الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ پابوہر کے ماسنگھ بھوپا، کھیتلاری کے بھارمل، کلوئی کے سادھو وانیوں اور ناتھومل سمیت بعض ایسے افراد کے بارے میں بھی دعوے کیے جاتے ہیں جو وفات پا چکے ہیں، تاہم ان سے منسوب باقیات کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا الزام ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مبینہ بھوپا گیری کے باعث بعض اوقات خاندانوں میں شکوک، اختلافات اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں، جبکہ سادہ لوح اور غریب افراد علاج یا مدد کے نام پر مالی نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ تھرپارکر کے مختلف شہروں اور دیہات میں ماضی میں بھی بھوپا گیری سے وابستہ افراد کے بارے میں مختلف دعوے اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ کلوئی، ڈیپلو، چھاچھرو اور دیگر علاقوں میں بعض افراد پر جنات نکالنے، رقم دگنی کرنے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان میں سے کئی دعووں کی آزاد ذرائع یا متعلقہ قانونی اداروں سے تصدیق ضروری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کلوئی میں مبینہ طور پر بھوپا گیری کے ایک نئے گروہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ رات کے وقت شہر میں پتھر یا کنکریاں پھینک کر لوگوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں جنات نکلوانے کے نام پر مخصوص افراد سے رجوع کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ ان الزامات کی بھی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ڈیپلو اور گردونواح میں بھی مبینہ طور پر جنات نکالنے اور تعویذ گنڈوں کا سلسلہ جاری رہنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے بالخصوص کم تعلیم یافتہ اور غریب خاندان زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، ایس ایس پی تھرپارکر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھوپا گیری کے نام پر لوگوں کو ہراساں کرنے، فراڈ کرنے یا خواتین اور بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے نازیبا رویے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر کسی شخص کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ توہم پرستی اور خوف کے بجائے معاشرے میں تعلیم، شعور اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا جائے، جبکہ سماج دشمن سرگرمیوں کے ذریعے سادہ لوح افراد کا استحصال کرنے والے عناصر کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔



