صدر کی منظوری کے بغیر ججز کی تقرری؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا


اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدرِ مملکت کی جانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست کی سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ججز کی تعیناتی کی سمری صدرِ پاکستان کو ارسال کی جا چکی ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ حکومت جلد تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے جا رہی ہے۔
دورانِ سماعت عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا صدرِ مملکت کے خلاف ایسی آئینی درخواست قابلِ سماعت ہے؟ اور کیا کوئی ایسا عدالتی فیصلہ موجود ہے جس میں صدر کو آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہو۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کا منصب علامتی نوعیت کا ہے اور اگر 15 دن گزرنے کے باوجود منظوری نہ آئے تو وزارتِ قانون نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔ انہوں نے وفاق، وزیراعظم آفس اور وزارتِ قانون سے سمری کی موجودہ حیثیت طلب کرنے کی بھی استدعا کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔