شیخ حسینہ کو بھارت میں میڈیا سے خطاب کی اجازت، بنگلادیش کا سخت احتجاج

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش نے بھارت میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو میڈیا سے گفتگو کی اجازت دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔

بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات پر سخت برہم ہے کہ مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا سے خطاب کی اجازت دی گئی، حالانکہ اس معاملے پر پہلے ہی بھارتی حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی ایک میڈیا نشست منعقد ہوئی۔

وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا کہ شیخ حسینہ نے اپنی گفتگو کے دوران بنگلادیش، اس کے عوام اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور زہریلے ریمارکس دیے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ تقریب جولائی انقلاب کی دوسری برسی کے موقع پر منعقد کی گئی، جبکہ بھارتی سرزمین پر شیخ حسینہ کی موجودگی اور میڈیا سے خطاب ان افراد کی توہین ہے جو حکومت مخالف تحریک کے دوران جان کی بازی ہار گئے تھے۔

بنگلادیشی حکومت نے جولائی اور اگست 2024 کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن سے متعلق شیخ حسینہ کے مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوے اقوام متحدہ کی تحقیقات اور دستیاب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ بنگلادیش کے عوام ماضی کے سیاسی نظام کو مسترد کر چکے ہیں اور ملک دوبارہ ایسے دور کی طرف واپس نہیں جائے گا۔

بیان میں بھارت پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان 2013 کے حوالگی معاہدے کے باوجود شیخ حسینہ کی واپسی سے متعلق بنگلادیش کی درخواستوں پر کوئی مؤثر جواب نہیں دیا۔

بنگلادیش نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ باہمی احترام، مساوات، عدم مداخلت اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی مثبت تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم ایسے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں سزا سنائی گئی، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق 2024 کی عوامی تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

مزید خبریں

Back to top button