بی آر ٹی یلو لائن کرپشن کیس: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی ضمانت پر سماعت 12 اگست تک ملتوی

پتہ نہیں یہ کرپشن کے کیسز کیسے بنائے جاتے ہیں؟ سندھ ہائیکورٹ کے جج کے اہم ریمارکس

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) سندھ ہائیکورٹ نے کراچی بی آر ٹی (BRT) یلو لائن منصوبے میں مبینہ طور پر ساڑھے 8 ارب روپے کی کرپشن کے کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت 12 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل راج علی واحد کنور ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر کسی خرد برد کا الزام نہیں بلکہ صرف ایڈوانس ادائیگی کا الزام ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جن تین ٹھیکیداروں (کانٹریکٹرز) کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے، ان میں سے کسی کو بھی نہ تو ملزم بنایا گیا اور نہ ہی گواہ۔

سماعت کے دوران جسٹس میران محمد شاہ نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل نے تو ٹرائل کورٹ میں نو آبجیکشن دیا تھا۔ میں خود بھی 16 سال سرکاری وکیل رہا ہوں، پتہ نہیں یہ کرپشن کے کیسز کیسے بنائے جاتے ہیں؟ اینٹی کرپشن کے کیسز میں مدعی خود تفتیشی افسر ہوتا ہے اور اس کیس میں کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزم ضمیر عباسی کو 22 جون کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے ورلڈ بینک کو مطلع کیے بغیر اور باقاعدہ منظوری لیے بغیر ایڈوانس ادائیگیاں کیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر بھی دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔

مزید خبریں

Back to top button