لاہور ہائیکورٹ کا کرپٹو کرنسی پر اہم فیصلہ، صرف P2P ٹرانزیکشن جرم نہیں قرار دی جا سکتی

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ورچوئل اثاثوں (P2P) کا لین دین یا کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کی بنیاد پر اسے دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ واضح شواہد سے ثابت کرے کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ تیار کیا یا اکاؤنٹ منجمد ہونے میں ان کا کوئی کردار تھا۔
عدالت کے مطابق ایف آئی اے نے حماد علی، اسد امجد اور محمد اطہر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور پیکا ایکٹ کی دفعات 13 اور 14 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ الزام تھا کہ وہ P2P مرچنٹس کے طور پر شکایت کنندہ سے رقوم وصول کرنے والے افراد میں شامل تھے اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں مختلف اوقات میں رقوم منتقل کی گئیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ محمد فرحان نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا گیا، ابتدا میں اس نے 25 ہزار یو ایس ڈی ٹی (USDT) خریدے، بعد ازاں مسلسل سرمایہ کاری کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2 لاکھ 70 ہزار یو ایس ڈی ٹی کی خریداری کے لیے تقریباً 6 کروڑ 86 لاکھ روپے مختلف افراد کو منتقل کیے۔ بعد میں متعلقہ کرپٹو پلیٹ فارم نے اس کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا، جس کے باعث وہ اپنے ورچوئل اثاثوں تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔
فیصلے میں عدالت نے مزید قرار دیا کہ کرپٹو کرنسی یا ورچوئل اثاثے پاکستان میں قانونی زرِ مبادلہ (Legal Tender) نہیں ہیں، تاہم صرف اسی بنیاد پر انہیں غیر قانونی یا ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سٹیٹ بنک کا 2018 کا سرکلر نجی افراد کے لیے فوجداری جرم پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا اطلاق صرف بینکوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں پر ہوتا تھا۔ لہٰذا صرف USDT کی خرید و فروخت کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کہا جا سکتا، جب تک بیرون ملک ادائیگی یا غیر قانونی زرمبادلہ کی منتقلی کا واضح ثبوت موجود نہ ہو۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ درخواست گزاروں نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا، جعلی الیکٹرانک ریکارڈ بنایا، الیکٹرانک فراڈ کیا یا اس پلیٹ فارم کو کنٹرول کیا جس نے اکاؤنٹ منجمد کیا۔ مزید یہ کہ تمام شواہد دستاویزی نوعیت کے ہیں، ملزمان تحقیقات میں شامل ہو چکے ہیں اور ان کی جسمانی تحویل میں تفتیش کی ضرورت بھی ثابت نہیں ہوئی۔
ان وجوہات کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزاروں کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانتیں کنفرم کرتے ہوئے ہر درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔



