روس ایران کو امریکی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات دے رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ

کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات ایران کو فراہم کر رہا ہے، جنہیں مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ بندی، اہداف کی نشاندہی اور نقصانات کے جائزے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے یوکرینی حکام نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روسی سیٹلائٹس کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ ان کے مطابق روس کی جانب سے حاصل کی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر بعد ازاں ایران تک پہنچتی ہیں اور ان تصاویر اور ایرانی حملوں کے درمیان واضح تعلق دیکھا گیا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق یہ معلومات حملوں سے قبل اہداف کی تیاری، حملوں کے دوران رہنمائی اور بعد ازاں ہونے والے نقصانات کے تجزیے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے کہا ہے کہ اس نے بحیرۂ کیسپین میں ایران اور روس کے درمیان عسکری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا۔ یوکرینی صدر کے مطابق ان کارروائیوں میں فوجی سامان بردار جہازوں کے علاوہ ایک جنگی جہاز کو بھی ہدف بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی انٹیلی جنس سروس نے بھی ایسے بحری جہازوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سازوسامان منتقل کر رہے تھے۔

دوسری جانب ایران نے یوکرین کے مبینہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو "جارحانہ اور مجرمانہ اقدام” قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب دیا جائے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں کبھی فریق بننے کی کوشش نہیں کی۔

ادھر امریکی میڈیا میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران ایسے دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ روس ایران کو امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں چین کا نام بھی لیا گیا، تاہم ان اطلاعات کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس میں ایک سماعت کے دوران عندیہ دیا تھا کہ روس اور چین مختلف سطحوں پر ایران کی مدد کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات کو خفیہ قرار دیا۔ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ روس یا چین ایران کی اس نوعیت کی عسکری معاونت کر رہے ہیں، اور ان کے بقول روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کی فوجی مدد میں شامل نہیں۔

زیلنسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف 19 اور 20 جولائی کے دوران روسی سیٹلائٹس نے بحرین، اردن اور کویت میں واقع چار امریکی فضائی اڈوں کی نگرانی کی، جس کے بعد ان علاقوں میں ایرانی حملے دیکھنے میں آئے۔

تاہم اس معاملے پر اب تک روس اور ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ زیلنسکی کے الزامات کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔

مزید خبریں

Back to top button