شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کا خواہاں، گولان کی پہاڑیوں پر حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، صدر احمد الشرع

دمشق(ویب ڈیسک) شامی صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ شام متعدد ممالک کی شمولیت سے اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مطلب گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر شام کے قانونی حق سے دستبرداری نہیں ہوگا۔

قطری نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سکیورٹی معاہدہ خطے میں جامع اور پائیدار امن کی بنیاد رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کرنا چاہتا ہے اور سکیورٹی انتظامات مستقبل میں وسیع تر سیاسی حل کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل جنوبی شام میں متعدد فضائی حملے اور فوجی کارروائیاں کر چکا ہے۔

لبنان میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں

صدر احمد الشرع نے واضح کیا کہ شام کا لبنان میں کسی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شامی حکومت لبنانی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ لبنان کو موجودہ بحران سے نکال کر استحکام کی جانب لے جانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنان میں ہتھیاروں پر مکمل اختیار اور جنگ و امن کے فیصلے صرف ریاست کے پاس ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق لبنان کے مسائل کا حل صرف سکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی، معاشی اور سماجی منصوبے میں مضمر ہے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق خدشات

شامی صدر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کشیدگی پورے خطے میں پھیل گئی تو اس کے نہایت سنگین علاقائی نتائج برآمد ہوں گے، جبکہ لبنان میں مزید عدم استحکام کے اثرات بھی براہِ راست شام تک پہنچ سکتے ہیں۔

اقتصادی پابندیاں اور داخلی معاملات

احمد الشرع نے کہا کہ شام کی معاشی بحالی کے لیے صرف امریکی اور بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے بھی نکالنا ضروری ہے۔

انہوں نے شمالی اور مشرقی شام میں سرگرم شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ طے پانے والے داخلی معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاہدے پر پوری طرح قائم ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

لاپتہ افراد کے لیے خصوصی کمیٹی کا قیام

صدر احمد الشرع نے اعلان کیا کہ حکومت نے 2011 سے 2024 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کرے گی اور متعلقہ ممالک و اداروں کے ساتھ تعاون کرے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام کی خانہ جنگی کے دوران تقریباً ایک لاکھ افراد جبری طور پر لاپتہ ہوئے، جبکہ شام کے قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد تین لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button