رزم گاہِ حق و باطل:غضب،فتح اور بھارتی سازشوں کا بے نقاب ہوتا چہرہ

تحریر:معظم فخر

​پاکستان کی دفاعی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیتے ہیں اور 15 مئی 2026 کا دن بھی کچھ ایسا ہی ہے جب جی ایچ کیو کے آہنی عزم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ارضِ پاک کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ سب سے بڑی اور سنسنی خیز خبر "غضب” ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کا فیلڈ ٹیسٹ ہے جس نے خطے کے دفاعی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی فوج نے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ‘فتح-4’ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی ڈیپ سٹرائیک صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے، وہیں ‘غضب’ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب میدانِ جنگ میں دشمن کے پاس بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ یہ 750 کلومیٹر تک مار کرنے والا ‘فتح-4’ محض ایک میزائل نہیں بلکہ دشمن کے ریڈارز کو چکما دینے والا وہ شکاری ہے جو زمین سے قریب پرواز کرتے ہوئے کسی بھی فضائی دفاعی نظام کو ردی کا ڈھیر بنا سکتا ہے، اور اس میں نصب مصنوعی ذہانت یعنی AI ماڈیول اسے عصرِ حاضر کا مہلک ترین ہتھیار بناتا ہے۔

​لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ سنگین اور سنسنی خیز ہے جس کے تانے بانے کابل اور دہلی کے گٹھ جوڑ سے ملتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان اپنی سرحدوں کو میزائلوں اور جدید راکٹ سسٹمز کی باڑ سے محفوظ کر رہا ہے تو دوسری طرف افغان طالبان حکومت کی گود میں بیٹھا بھارت 45 ملین ڈالر کی بھاری بھرکم رشوت کے عوض پاکستانی سرحد کے قریب قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ رقم کسی خیراتی کام کے لیے نہیں بلکہ "کوالٹی کنٹرول لیبز” کے لبادے میں نو اسٹریٹجک پوائنٹس پر بھارتی اڈوں کے قیام کے لیے دی گئی ہے۔ کابل کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر کا یہ چیک وصول کرنا دراصل پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے، کیونکہ یہ لیبز کوئی تجارتی مرکز نہیں بلکہ ‘را’ کے وہ جاسوسی ٹاورز ہوں گے جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی کی جائے گی۔ 13 مئی کو بارکھان میں ہونے والا خونریز آپریشن، جس میں میجر توصیف احمد بھٹی سمیت پانچ جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، اسی بھارتی پراکسی اور "فتنہ الہندوستان” کی کڑی ہے جو بلوچستان کو لہو رنگ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

​مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی اور امریکی تھنک ٹینکس کی جانب سے اسی سال یعنی 2026 میں پاک بھارت جنگ کی پیش گوئیاں محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر معصوم چرواہوں کو نشانہ بنا کر اشتعال انگیزی کر رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم اسلام آباد اور راولپنڈی کا پیغام واضح ہے کہ اب کابل ہو یا دہلی، دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولا جائے گا۔ ‘غزنوی تھری’ میزائل کے حالیہ تجربات کی تیاری اور ‘غضب’ راکٹ سسٹم کی فوری آپریشنل انڈکشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے حقِ دفاع سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دشمن یاد رکھے کہ یہ وہی پاکستان ہے جس نے اب ‘فتح-5’ کے ذریعے ایک ہزار کلومیٹر تک کے اہداف کو اپنے نشانے پر لاک کر لیا ہے۔ یہ کامیاب تجربات محض ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ ان تمام فتنہ گروں کے لیے حتمی وارننگ ہے جو ڈالروں کی خاطر اپنے پڑوسی کے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ اب پاکستان کا دفاعی قہر ان تمام سازشوں کو خاکستر کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

مزید خبریں

Back to top button