امریکی سیکیورٹی اہلکاروں کی فلسطینیوں پر فائرنگ کا ہولناک انکشاف
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ تھا

غزہ (ویب ڈیسک): غزہ میں امدادی مراکز پر تعینات امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹرز کی جانب سے خوراک کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کیے جانے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے "ایسوسی ایٹڈ پریس” (اے پی) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی کنٹریکٹرز نے تسلیم کیا ہے کہ غزہ میں متعین سیکیورٹی اہلکاروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ اسٹن گرینیڈز اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال بھی کیا، جب کہ ایسا کسی واضح خطرے کے بغیر کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سیکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ تھا لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ موجود تھا۔ کنٹریکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ ان واقعات پر دلی پریشانی کے باعث حقائق منظر عام پر لا رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان امدادی مراکز میں چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے مشتبہ افراد کی نشاندہی کر کے ان کا ڈیٹا اسرائیلی افواج کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ کنٹریکٹرز کے مطابق، سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ مشتبہ افراد کی تصاویر لے کر انہیں ایک ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے۔
دوسری جانب اسرائیل کی حمایت یافتہ اور امریکی امداد سے چلنے والی "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن” نے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور سیکیورٹی آپریشنز کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی فاؤنڈیشن ہے جسے گزشتہ ماہ امریکی حکومت کی جانب سے 30 ملین ڈالر کی مالی امداد فراہم کی گئی تھی، جس کا مقصد غزہ کے متاثرہ عوام کو انسانی بنیادوں پر ریلیف دینا بتایا گیا تھا۔
اس انکشاف کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی مبصرین کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے پس پردہ مقاصد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جب کہ غزہ میں شہریوں کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔



