پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا فیصلہ
تحریکوں کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں

لاہور (ویب ڈیسک): پنجاب اسمبلی میں حالیہ ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن اراکین کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے 13 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ واپس لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی بینچوں نے اپوزیشن جماعتوں کے چار قائمہ کمیٹی چیئرمینوں کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرادی ہے، جن پر آج (منگل) سے عمل درآمد شروع ہوگا۔ ان کمیٹیوں میں کمیٹی برائے کالونیز، اسپیشل ایجوکیشن، لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن، اور مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی برائے مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک رانا عبدالستار، سہیل خان، رفعت عباسی اور ضیا الرحمٰن نے جمع کرائی۔ اسی طرح کمیٹی برائے لٹریسی کے چیئرمین کے خلاف فیصل اکرم، لعل محمد، جعفر علی ہوچہ اور عمران جاوید نے تحریک جمع کرائی۔
قائمہ کمیٹی برائے کالونیز کے چیئرمین پر عدم اعتماد کی تحریک نوید اسلم، غزالی سلیم بٹ، زکیہ خان اور عائشہ جاوید نے جمع کروائی، جب کہ کمیٹی برائے اسپیشل ایجوکیشن کے چیئرمین کے خلاف محمد یوسف، غضنفر عباس، عطیہ افتخار اور فیلبوس کرسٹوفر نے تحریک دی۔
تحریکوں کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں، جن میں چیئرمینوں کو ہٹانے کا باقاعدہ فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسمبلی کی مزید 9 قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن چیئرمینوں کو ہٹانے کے حوالے سے بھی جلد فیصلہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی اور احتجاج پر اسمبلی قیادت کی جانب سے مختلف پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں یہ تازہ قدم بھی شامل ہے۔



