توانائی کا کاریڈور خیبر پختونخوا و گلگت بلتستان میں اور واپڈا کا دفتر لاہور میں،اس طرح نہیں چلے گا، وزیراعلیٰ جی بی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آذر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، سوئٹزرلینڈ سے زیادہ ٹورازم پوٹینشل موجود ہے،15 ارب روپے کا سونا روزانہ چوری ہو رہا ہے، توانائی کا کاریڈور خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان ہے لیکن واپڈا کا دفتر لاہور میں ہے اس طرح نظام نہیں چلے گا، 60 روپے یونٹ پر انڈسٹری نہیں چل سکے گی۔
کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ہے، جمہوریت کو استحکام اور پروان چڑھانے میں آواز اٹھانے والے صحافی ہیں، ہر صوبے کے الگ معاملات اور مسائل ہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا خون کے آنسو روتے ہیں، سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے، آزاد کشمیر جو پرامن رہتا تھا اس کے موجودہ حالات سب کے سامنے ہیں، گلگت بلتستان نے بھی مشکلات دیکھیں لیکن اب ماحول ٹھیک ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی شناخت کا مسئلہ قیام پاکستان سے تھا، 2009 تک ہمیں شناخت کا مسئلہ رہا، ہمارے بزرگوں کی جدوجہد کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ہماری جانب دیکھا تھا، آج گلگت بلتستان کی شناخت بین الاقوامی بن چکی ہے، بہت سے ممالک کے بارڈر گلگت بلتستان سے منسلک ہیں جو ایک گیٹ وے ہے، رقبے کے اعتبار سے بھی بہت وسیع ہے، گلیشیئر زیادہ تر ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں، 8 ہزار گلیشیئر تھے ہم نے گلیشیئر پروٹیکشن اتھارٹی بنائی دنیا کو بتایا اس کو بچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جائز حقوق کے لیے ہمیں جدوجہد کی آواز بلند کرنی چاہیے، ہم طویل جدوجہد کے بعد 2025 میں عوام کو لینڈ ریفارم دینے میں کامیاب ہوئے، 2026 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے حقوق کا تحفظ کیا، ہماری جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ ہر نشست اور ووٹ اصلی ہے، آج حکومت بن چکی ہے۔ مانتے ہیں ہم مسئلہ کشمیر اور تنازعہ کشمیر کا حصہ ہیں، ہمیں ادراک ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہم زندہ رکھنا چاہتے ہیں، ہمیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دی جائے۔ 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کو جو حقوق حاصل تھے مودی نے ختم کر دیے، دنیا نے کوئی ایکشن نہیں لیا، گلگت بلتستان میں حکومت بنی تو وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، وہاں تحفظات ہیں کہ عبوری طور پر صوبہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صنعت کا پہیہ نہیں چل رہا، توانائی کی بلند قیمتیں بڑی وجہ ہے، معیشت ٹھیک کرنے کے لیے صنعت چلانا ہوگی، ہائیڈرو جنریشن پر کام کرنا ہوگا، پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، گلگت میں گلیشیئرز کی بڑی تعداد موجود ہے، پن بجلی کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ایئر سروس اور ڈیجیٹل کنکشن بہتر بنانے ہوں گے، ہر کام صوبائی حکومت نہیں کر سکتی، وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، گلگت بلتستان میں دو یونیورسٹیاں ہیں، میڈیکل کالج قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کوشش ہے اگلے سال سے کام شروع کر دے، ٹیکنیکل کالج کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، 500 بستروں کے اسپتال تعمیر کیے جا رہے ہیں، بجٹ سے عوام کے علاج معالجے پر اخراجات کر رہے ہیں، کینسر کے مریضوں کا شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کروا رہے ہیں۔
قبل ازیں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان نے بھی خطاب کیا۔.



