اسرائیلی فضائی حملوں میں 935 ایرانی شہری شہید

اعداد و شمار فرانزک شواہد اور متاثرہ علاقوں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر جاری کیے گئے

تہران (ویب ڈیسک): ایران کے عدالتی ترجمان اصغر جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 935 ایرانی شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں 38 بچے اور 132 خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی وزارتِ صحت کے پہلے جاری کردہ 610 شہادتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ تازہ اعداد و شمار فرانزک شواہد اور متاثرہ علاقوں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران کی ایوین جیل پر ہونے والے حملے میں شہادتوں کی تعداد بھی 71 سے بڑھا کر 79 کر دی گئی ہے۔

اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جن کا ہدف جوہری تنصیبات، اعلیٰ فوجی افسران اور شہری آبادیاں تھیں۔ یہ حملے 1980 کی دہائی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران پر سب سے بڑے حملے تصور کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی جوابی کارروائی میں اسرائیل کے فوجی مراکز، بنیادی ڈھانچے اور شہری علاقوں پر میزائل داغے گئے، جبکہ 22 جون کو امریکہ نے بھی ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیل کے ان حملوں کو "جنگی جرائم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہید، ہر تباہ شدہ عمارت ان جرائم کا ثبوت ہے، اور ایران ان شواہد کو عالمی اداروں کے سامنے پیش کرے گا تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ان حملوں کو کسی صورت جائز نہیں سمجھتا، خواہ وہ فوجی ہوں یا شہری اہداف، کیونکہ یہ جارحیت بے گناہوں کی شہادت کا سبب بنی ہے۔ ایران عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button