تھرپارکر:کلوئی کے قریب دو نوجوان خواتین کی اموات، تشدد کے شبہات پر تشویش

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) کلوئی تھانے کی حدود میں مختصر عرصے کے دوران دو نوجوان خواتین کی اموات نے مقامی لوگوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ شبہات اور الزامات سامنے آئے ہیں کہ دونوں خواتین کو موت سے قبل مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تین روز قبل کلوئی کے قریب بلوچ آباد میں بارش کے پانی سے بھرے گڑھے سے اللہ بچائی زوجہ کریم بخش لنڈ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو حادثاتی موت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کو چیختے ہوئے بھاگتے دیکھا گیا، جبکہ بعض افراد مبینہ طور پر اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ خاتون فرار ہونے کی کوشش کے دوران بارش کے پانی سے بھرے گڑھے میں گر گئی اور پانی زیادہ ہونے کے باعث ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔ واقعے کے اصل حالات تاحال واضح نہیں ہوسکے۔ اب تک کوئی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی، جبکہ پولیس کی جانب سے بھی مبینہ طور پر خاتون کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا۔ دوسرے واقعے میں، دو روز بعد کلوئی کے قریب گاؤں میر خان لنڈ میں 25 سالہ وسائی زوجہ علی محمد لنڈ کی موت واقع ہوئی۔ متوفیہ کے والد عبدالرحمان لنڈ نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو اس کے شوہر علی محمد لنڈ نے مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے لاش تحویل میں لے کر ڈیپلو اسپتال منتقل کی، جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ بعد ازاں لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی اور خاتون کی اگلے روز تدفین کردی گئی۔ تازہ ترین اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب متوفیہ کے شوہر علی محمد لنڈ نے الزام مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ کو اچانک طبی دورہ پڑا، جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین ہوسکے گا۔ حکام کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔ دونوں خواتین کی اموات کے بعد دو شیر خوار بچے بھی ماؤں سے محروم ہوگئے ہیں۔ پڑوسیوں کے مطابق دونوں معصوم بچے اپنی ماؤں کو یاد کرکے مسلسل روتے اور انہیں تلاش کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے اس صورتحال کو دونوں خواتین اور ان کے معصوم بچوں کے لیے انتہائی افسوسناک سانحہ قرار دیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے کلوئی تھانے کی حدود میں مبینہ جرائم اور پرتشدد واقعات میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جائے اور دونوں خواتین کی اموات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں کسی فرد کو تشدد یا کسی بھی غیر قانونی عمل میں ملوث پایا جائے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور منصفانہ تحقیقات کے نتائج کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button