پاکستان میں ڈیڑھ صدی بعد نایاب وائٹ ٹیل ایگل کی موجودگی کا انکشاف

سکھر (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) پاکستان میں انتہائی نایاب سمجھے جانے والے سفید دم عقاب (White-tailed Sea Eagle) کو سندھ میں شکاریوں کے چنگل سے بازیاب کرالیا گیا۔ سرد خطوں میں پائے جانے والے اس طاقتور شکاری پرندے کو مبینہ طور پر شکار کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے قید کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ٹیلڈ سی ایگل ممکنہ طور پر سخت موسمی حالات یا مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث راستہ بھٹک کر سندھ پہنچا، تاہم یہاں پہنچنے کے بعد اسے شکاریوں نے پکڑ لیا۔
شکاریوں نے عقاب کو قابو کرنے کے بعد مبینہ طور پر اس کی آنکھیں سوئی سے سی دیں، جبکہ اڑنے سے روکنے کے لیے اس کے پر بھی کاٹ دیے گئے۔ اس اقدام کے باعث نایاب پرندہ شدید تکلیف اور مشکلات کا شکار ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 میں ہارون نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سکھر سے اس قیمتی شکاری پرندے کو ریسکیو کیا۔ عقاب کی بازیابی کو سندھ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سفید دم عقاب عموماً اسکینڈینیویا سے سائبیریا تک کے سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی آمد انتہائی نایاب ہے اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق پوری بیسویں صدی کے دوران ملک میں اس پرندے کی صرف 12 سے 15 یا اس سے بھی کم مستند موجودگی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سفید دم عقاب کو نایاب موسمِ سرما کا مہمان تصور کیا جاتا ہے، اس لیے سندھ میں اس کا پایا جانا جنگلی حیات کے ماہرین اور پرندوں کے تحفظ سے وابستہ حلقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔



