ایران میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، جھیل ارومیہ تقریباً ختم، ہزاروں دیہات خالی، کروڑوں افراد متاثر

دوحہ(جانوڈاٹ پی کے)ایران میں پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے جہاں مسلسل خشک سالی، کم ہوتی بارشیں، زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور ناقص آبی انتظام نے ملک کو شدید آبی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران پانی سے متعلق شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے بھی صورتِ حال مزید خراب کر دی ہے۔
عالمی وسائل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایران دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں آبی دباؤ انتہائی بلند سطح پر ہے اور ملک ہر سال اپنی قابلِ تجدید آبی صلاحیت کا 80 فیصد سے زیادہ استعمال کر رہا ہے۔
جھیل ارومیہ تقریباً ختم
شمال مغربی ایران میں واقع مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی نمکین جھیل ارومیہ 1990ء کی دہائی میں تقریباً 6000 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی تاہم اب اس کا رقبہ گھٹ کر صرف 581 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے جو اس کے اصل حجم کا 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
الجزیرہ کے مطابق مسلسل خشک سالی، زرعی مقاصد کے لیے پانی کا بے تحاشا استعمال، دریاؤں کا رُخ موڑنے، زیرِ زمین پانی نکالنے اور 60 سے زائد بند تعمیر ہونے کے باعث جھیل میں پانی کی آمد شدید متاثر ہوئی جبکہ بڑھتے درجۂ حرارت نے بخارات کے عمل کو تیز کر دیا۔
پانی کی طلب وسائل سے تجاوز کر گئی
2025ء میں ایران کی 92 ملین آبادی نے تقریباً 100 ارب مکعب میٹر (100 billion cubic metres) پانی استعمال کیا جبکہ ملک کے قابلِ تجدید آبی وسائل صرف 87 ارب مکعب میٹر پانی فراہم کر سکتے ہیں، اس طرح ایران کو تقریباً 13 ارب مکعب میٹر پانی کے خسارے کا سامنا ہے۔
ملک میں استعمال ہونے والے پانی کا 91 فیصد زراعت، 7 فیصد گھریلو ضروریات اور 2 فیصد صنعتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تاہم فرسودہ آبپاشی نظام کے باعث بڑی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے۔
تہران کے آبی ذخائر خطرناک حد تک کم
تہران کو پانی فراہم کرنے والے لار، لتیان اور مملو بندوں میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، خشک سالی اور بڑھتی طلب نے دارالحکومت کے آبی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور کئی ذخائر تقریباً خشک ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
31 ہزار دیہات خالی، ایک کروڑ افراد پانی کی کمی کا شکار
ایرانی حکام کے مطابق ملک کے 69000 دیہات میں سے صرف 38000 آباد ہیں جبکہ 31000 دیہات پانی کی قلت اور معاشی مشکلات کے باعث خالی ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 27000 دیہات جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد رہتے ہیں، پانی کی قلت کا شکار ہیں، مجموعی طور پر ایران کے 70 فیصد سے زائد دیہات کسی نہ کسی درجے کے آبی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
زائندہ رود دریا بھی خشک ہونے لگا
وسطی ایران کا تاریخی زائندہ رود دریا جو صدیوں تک اصفہان کی زندگی کا مرکز رہا، اب بار بار خشک ہو رہا ہے، دریا پر قائم تاریخی اللّٰہ وردی خان پل کے نیچے اکثر خشک دریا کا منظر دکھائی دیتا ہے جبکہ زائندہ رود بند میں بھی پانی کی سطح نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔
نمک زدہ پانی صاف کرنے کا حصہ صرف 3 فیصد
ایران اپنی مجموعی آبی ضروریات کا صرف 3 فیصد نمکین سمندری پانی صاف کرکے حاصل کرتا ہے، زیادہ تر پلانٹ جنوبی ساحلی علاقوں میں واقع ہیں، جس کے باعث تہران، اصفہان اور اندرونِ ملک کے زرعی علاقوں کو اس سہولت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر پانی کے استعمال، زراعت اور آبی انتظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو ایران کو آنے والے برسوں میں مزید شدید آبی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



