پانی کی تقسیم پر نیا تنازع، سندھ اور وفاق آمنے سامنے، ارسا پر سنگین الزامات

​کراچی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)

​پانی کی شدید قلت نے سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک نیا اور سنگین تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سندھ حکومت نے وفاق پر الزام لگایا ہے کہ صوبے کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا اور ان کا پانی غیر منصفانہ طور پر پنجاب کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ کو اس وقت 47 فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ پنجاب کو صرف 10 سے 11 فیصد قلت دی جا رہی ہے۔

​قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس معاملے پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم میں 1991 کے معاہدے کی پاسداری کی جائے۔ وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو کے دعووں کے برعکس، سندھ حکومت نے اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اور ذخائر میں اضافہ ہونے کے باوجود سندھ کو جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے خریف کی فصل بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے صوبے میں زرعی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

​سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر وفاق نے ارسا (IRSA) کے ذریعے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہ بنایا تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ بلوچستان کو بھی پانی کی سپلائی سندھ کے ذریعے ملتی ہے، اس لیے وہاں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے ابھی تک اس سنگین مسئلے پر کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس سے سیاسی کھچاؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

​وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button