امریکا کا مجموعی قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز، مالیاتی بحران کا خطرہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کا مجموعی وفاقی قرض تاریخ میں پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا، جس کے بعد ملک کی مالیاتی پائیداری اور بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست کو مجموعی عوامی قرض 40.047 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی قرض 2017 میں تقریباً 19.95 ٹریلین ڈالر تھا، یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں یہ رقم دگنی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ موجودہ مجموعی قرض میں تقریباً 32.266 ٹریلین ڈالر عوام کے پاس موجود قرض جبکہ 7.782 ٹریلین ڈالر حکومتی اداروں کے باہمی قرض پر مشتمل ہیں۔
قرض میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سماجی تحفظ اور صحت عامہ کے پروگراموں کے اخراجات، قرض پر بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیاں، دفاعی اخراجات اور طویل عرصے سے جاری بجٹ خسارہ شامل ہیں۔ امریکی حکومت کی آمدنی پر ٹیکس پالیسیوں اور بعض محصولات میں کمی نے بھی مالی دباؤ بڑھایا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے آغاز پر امریکی قرض 19.95 ٹریلین ڈالر تھا، جبکہ جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں بھی قرض میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ٹرمپ اور بائیڈن ادوار میں قرض میں ہونے والے اضافے میں کووڈ وبا کے دوران بڑے پیمانے پر حکومتی اخراجات بھی اہم عنصر رہے۔
ماہرین نے بڑھتے ہوئے قرض کو امریکی معیشت کے لیے طویل مدتی چیلنج قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قرض پر سود کی ادائیگیوں میں اضافہ حکومت کے مالی وسائل کو محدود کرسکتا ہے اور مستقبل میں مالیاتی بحران کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔



