امریکا میں برتھ رائٹ سٹیزن شپ پر نئی پابندیاں، ٹرمپ نے ایک بار پھر محاذ کھول دیا

نیویارک (جانوڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت (Birthright Citizenship) دینے کے آئینی حق کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دو نئے صدارتی احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت سے متعلق ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کرتے ہوئے آئین کے تحت اس حق کو برقرار رکھا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے دونوں صدارتی احکامات پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا، تاہم اب ان کی انتظامیہ اس معاملے پر مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے کو ایک نئے قانونی راستے سے آگے بڑھائے گی۔

پہلا حکم: پیدائشی شہریت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش

پہلے صدارتی حکم کے تحت ایسے غیر ملکی والدین کی نئی کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں جن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکم نامے کے مطابق اگر بچے کے دونوں والدین امریکی شہری نہ ہوں اور ان میں سے کسی ایک پر درج ذیل شرائط لاگو ہوں تو ایسے بچے کو پیدائشی امریکی شہریت دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے:

  • والدین میں سے ایک کسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہو۔
  • کسی غیر ملکی حکومت کا ملازم ہو۔
  • دھوکہ دہی یا فراڈ کے ذریعے امریکی شہریت یا امیگریشن فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
  • ایسے امریکی علاقے میں مقیم ہو جہاں وفاقی قانون کے تحت خودکار شہریت کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بعض غیر ملکی عناصر امریکی قوانین اور امیگریشن نظام کا ناجائز فائدہ اٹھا کر امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے روکنا ضروری ہے۔

دوسرا حکم: برتھ ٹورازم کے خلاف سخت اقدامات

صدر ٹرمپ نے دوسرا صدارتی حکم نامہ برتھ ٹورازم (Birth Tourism) کے خلاف جاری کیا۔ برتھ ٹورازم سے مراد وہ عمل ہے جس میں حاملہ خواتین سیاحتی یا وزٹ ویزا پر امریکا آتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کی پیدائش امریکا میں ہو اور انہیں خودکار طور پر امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہر سال لاکھوں بچے اس طریقہ کار کے ذریعے امریکی شہری بن جاتے ہیں، تاہم آزاد تحقیقی ادارے Migration Policy Institute کے مطابق مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ ہر سال تقریباً 22 ہزار سے 26 ہزار بچے برتھ ٹورازم کے ذریعے امریکا میں پیدا ہوتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران غیر ملکی ماؤں کے ہاں امریکا میں 9 ہزار 600 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف

صدر کے مشیر برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا کہ بعض افراد سیاح یا وزیٹر بن کر امریکا آتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصد اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلوانا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ایسے بچے بعد ازاں امریکی شہریت کی بنیاد پر سرکاری سہولتوں، ووٹنگ کے حق اور دیگر قانونی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے امریکی امیگریشن نظام متاثر ہوتا ہے۔

قانونی چیلنجز برقرار

ماہرین قانون کے مطابق امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (14th Amendment) امریکا میں پیدا ہونے والے بیشتر بچوں کو خودکار شہریت فراہم کرتی ہے، اس لیے صدر ٹرمپ کے نئے احکامات کو بھی عدالتوں میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیدائشی شہریت کا معاملہ امریکا میں امیگریشن پالیسی کا ایک نہایت حساس اور متنازع موضوع بن چکا ہے، اور امکان ہے کہ یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر وفاقی عدالتوں اور ممکنہ طور پر سپریم کورٹ تک پہنچے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے یہ اقدامات نہ صرف امریکی امیگریشن پالیسی بلکہ آئینی تشریح اور شہری حقوق سے متعلق بحث کو بھی مزید شدت دے سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امیگریشن کے حامی حلقے ان اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button