جنگ سے میرے باپ کی بھی توبہ؛ ٹرمپ نے کانوں کو ہاتھ لگا لیے: پٹرول کا ایٹم بم پھر بھی پھٹنے کو تیار

واشنگٹن: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مکمل جنگ کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کو ‘نو ٹو وار’ کا حتمی پیغام دے دیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایران کے ساتھ فوجی ٹکراؤ کا کوئی جواز نہیں بچا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا اعتراف ہے کہ نتن یاہو کے کہنے پر شروع کی گئی یہ کشیدگی اب امریکہ کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر ایک پھانسی کا پھندہ بن چکی ہے۔
امریکی ایڈمنسٹریشن اب سفارتی حل کی جانب پیشرفت چاہتی ہے کیونکہ ایران کی جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کا بحران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں۔ بی بی سی اور فائننشل ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، بڑے ممالک کے اسٹریٹجک آئل ریزرو ختم ہونے کے قریب ہیں، اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا ‘ایٹم بم’ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ پر جاری حملے اس امن عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بارہا کوششوں کے باوجود اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ نتن یاہو کو قابو کرنے میں مکمل طور پر بے بس ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کی اس تاریخی یو ٹرن، ایران کے ساتھ خفیہ رابطوں اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کی اندرونی کہانی جاننے کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔
مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:




