ٹھٹھہ:گھارو میں زیر تعمیر بی وائی ڈی پلانٹ پر چینی انجینئر حادثے کا شکار

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن )BYD پلانٹ میں چینی انجینئر حادثے کا شکار، ایمرجنسی سہولیات پر سوالات اٹھ گئے
گھارو میں زیر تعمیر BYD پلانٹ میں بلندی پر کام کے دوران ایک چینی انجینئر حادثے کا شکار ہو گیا، جسے زخمی حالت میں رورل ہیلتھ سینٹر گھارو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
زخمی کو مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کی ضرورت تھی، لیکن تقریباً دو گھنٹے تک ایمبولینس کا انتظار کرنا پڑا۔ 1122 ایمبولینس بھی وقت پر نہ پہنچ سکی، جس کے بعد آخرکار زخمی انجینئر کو نجی ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
اس واقعے کے بعد BYD پلانٹ کی ایمرجنسی اور طبی سہولیات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گھارو میں قائم ہونے والا BYD کا منصوبہ 73.4 ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس میں گاڑیوں کی اسمبلی، ٹیسٹنگ اور جدید صنعتی سرگرمیاں شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے صنعتی منصوبے میں کام کرنے والے مزدوروں اور افسران کے لیے کیا کمپنی کے پاس اپنی ایمرجنسی ایمبولینس، فرسٹ ایڈ سینٹر یا طبی عملے کی مناسب سہولت موجود ہے؟ اگر کسی مزدور یا انجینئر کو کام کے دوران اچانک سنگین حادثہ پیش آئے تو اسے فوری طبی امداد اور اسپتال منتقل کرنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟
متعلقہ انتظامیہ اور BYD کمپنی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جائے، پلانٹ کے اندر موجود ایمرجنسی سہولیات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور وہاں کام کرنے والے تمام مزدوروں اور ملازمین کی حفاظت کے لیے مناسب ایمبولینس، فرسٹ ایڈ اور طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔



