بدین:عوامی تحریک کے زیراہتمام سندھ میں تعلیمی تباہی اور نئے صوبوں کے قیام کیخلاف سیمینار

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ / پی کے)سندھ کی تعلیم تباہی کے دہانے پر، بدین میں 80 فیصد تعلیمی نظام متاثر ہونے کا دعویٰ

سفارش اور مبینہ کرپشن نے تعلیمی اداروں کو کھوکھلا کردیا، کئی اسکول دہائیوں سے خستہ حال، متعدد جھونپڑیوں میں قائم ہیں تفصیلات کے مطابق عوامی تحریک کے زیر اہتمام سندھ میں تعلیمی تباہی اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف سیمینار منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، طلبہ رہنماؤں، تعلیمی ماہرین، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

سیمینار سے عوامی تحریک کے مرکزی رہنما پروفیسر اسماعیل میمن، مہران درس، سندھی اسٹوڈنٹس تحریک ضلع بدین کے نائب صدر عمران پنہور، سندھی گرلز اسٹوڈنٹس تحریک کی مرکزی رہنما ثانیہ جمالی، سریش بھیل، سنگیتا ڈانواڻي، رضیہ خاصخیلی، آکاش بھیل، محبوب دل، لال جان میگھواڑ، مختیار بکاری، یوسف میراڻي اور دیگر نے خطاب کیا مقررین نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں تعلیم کے شعبے کے ساتھ نت نئے تجربات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سفارش اور مبینہ کرپشن نے تعلیمی اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کے مطابق بدین ضلع میں تقریباً 80 فیصد تعلیمی نظام متاثر ہوچکا ہے سیمینار میں سندھی اسٹوڈنٹس تحریک کی جانب سے یونین کونسل ڈئی کے تعلیمی اداروں سے متعلق تحقیقی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ڈئی ہائی اسکول کی نئی عمارت بھی خستہ حال ہوچکی ہے، جبکہ اسکول میں سائنس لیب، کمپیوٹر لیب اور لائبریری کی سہولت موجود نہیں۔ ہائر سیکنڈری اسکول بھی تاحال اپنی عمارت سے محروم ہے

رپورٹ کے مطابق ڈئی سمیت مختلف علاقوں کے متعدد گرلز اور بوائز پرائمری اسکولوں کی عمارتیں طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ فرنیچر اور اساتذہ کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں بچے تعلیم چھوڑ کر مال مویشی چرانے اور مزدوری کرنے پر مجبور ہیں

مقررین نے بتایا کہ جمن سولنگی، الہٰ ڈنو جمالي، نظر محمد جمالي، انب ریباری، بخشڻ دلواڻي، حاجی ذاکر کھوسو اور عیدو کچھی کے پرائمری اسکول مبینہ طور پر 30 سے 40 سال گزرنے کے باوجود جھونپڑیوں میں قائم ہیں شرکاء نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈئی، کھڈہسو، غلام شاہ، ٻڍو قمبراڻي، ڈگری، جھڈو، پنگریو اور کھوسکی کے درمیان وسیع علاقے میں طالبات کے لیے ایک بھی مڈل یا ہائی اسکول موجود نہیں سیمینار کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے کے تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، خستہ حال اسکولوں کی تعمیر و مرمت، فرنیچر اور اساتذہ کی کمی دور کی جائے اور طالبات کے لیے نئے مڈل و ہائی اسکول قائم کیے جائیں

سیمینار میں مشترکہ قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ سندھ میں کوئی نیا صوبہ یا انتظامی یونٹ قائم نہ کیا جائے۔ مقررین نے سندھ کی تقسیم کو تسلیم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا

مزید خبریں

Back to top button