عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہم کیلئے اقدامات کررہے ہیں،سرمد علی بھاگت

ٹھٹھہ(جاوید لطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی جانب سے ساحلی تحصیل کیٹی بندر میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف محکموں کے افسران، بلدیاتی نمائندوں، علاقے کے معززین، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی –
اس موقع پر شہریوں نے زمینوں کے ریکارڈ آف رائٹس، بجلی، نہروں کی بھل صفائی، حفاظتی بندوں کی مرمت، ریسکیو اسٹیشن کے قیام، صحت مراکز میں ڈاکٹرز اور عملے کی کمی، اسکولوں کی عمارات کی مرمت و بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور دیگر مسائل پیش کیے۔
ڈپٹی کمشنر سرمد علی بھاگت نے شہریوں کے مسائل نہایت توجہ سے سنے اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کیٹی بندر جیسے ساحلی اور پسماندہ علاقے میں افسران کی محدود رسائی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے مدنظر یہاں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سب سے بڑا مسئلہ زمینوں کے ریکارڈ کا ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کے دفاتر نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو مزید دشواری پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جلد ان دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ لوکوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 مئی تک زمینوں کے ریکارڈ کی ری رائٹنگ کا عمل مکمل کریں، جن افراد کے کلیمز جمع نہیں ہوئے وہ مقررہ تاریخ تک اپنے کلیمز جمع کروائیں تاکہ ان کا ریکارڈ درست کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بجلی کے مسائل کے حل، نہروں کی صفائی، سمندری تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی بندوں کی مرمت، ریسکیو اسٹیشن کے قیام، صحت مراکز میں ڈاکٹرز، عملے اور ادویات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنیا جا سکے۔



