تھرپارکرکوقحط زدہ ضلع قرار دینے کیلئے سریندر ولاسائی کا چیف سیکریٹری سندھ کو خط

تھرپارکر(رپورٹ:  میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ اسمبلی کے رکن سریندر ولاسائی نے تھرپارکر میں غیر مناسب اور غیر باقاعدہ مون سون بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلع کو فوری طور پر آفت زدہ/قحط متاثرہ ضلع قرار دینے کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ دیا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ کے نام لکھے گئے خط میں ایم پی اے سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ تھرپارکر کی بڑی آبادی کا گزر بسر بارانی زراعت، مویشی پالنے اور موسمی چراگاہوں پر ہے، اس لیے مون سون کی مطلوبہ مقدار میں بارشیں نہ ہونے کے باعث زراعت، مویشیوں، پینے کے پانی اور لوگوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ تھر میں مون سون کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 15 اگست ایک اہم مقررہ معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس وقت تک مطلوبہ بارشیں نہ ہوں تو زرعی نقصان، مویشیوں کے نقصانات اور پانی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لے کر متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سریندر ولاسائی نے کہا کہ سندھ حکومت ماضی میں بھی ایسا اقدام کر چکی ہے اور 2018 میں تھرپارکر سمیت بارشوں سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر امدادی اقدامات کیے گئے تھے۔

خط میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تھرپارکر میں بارشوں، فصلوں کی تباہی، پینے کے پانی کی دستیابی، چراگاہوں کی صورتحال اور مویشیوں کے نقصانات کا تعلقہ سطح پر فوری جائزہ لیا جائے اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے علاقوں کو قحط/آفت متاثرہ قرار دیا جائے۔

ایم پی اے نے مزید مطالبہ کیا کہ قحط متاثرہ غریب خاندانوں کو فوری طور پر مفت گندم اور ضروری خوراک فراہم کی جائے، جبکہ پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دیہات اور آبادیوں میں واٹر ٹینکرز سمیت ہنگامی بنیادوں پر پینے کے پانی کا انتظام کیا جائے۔

خط میں مویشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے چارہ بینک اور ہنگامی چارہ تقسیم مراکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دور دراز صحرائی علاقوں میں موبائل ویٹرنری ٹیمیں بھیجنے، جانوروں کی ویکسینیشن، ادویات اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

سریندر ولاسائی نے آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت دینے، جبکہ ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ضلعی سطح پر قحط مانیٹرنگ اور ریلیف کا نظام قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں تک امداد بلاوجہ تاخیر کے بغیر پہنچ سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ تھرپارکر کے عوام کو اس وقت تک انتظار نہیں کروایا جانا چاہیے جب تک قحط کی صورتحال انسانی بحران کی شکل اختیار کر لے۔ بروقت بارشوں کا جائزہ لینے کا مقصد ہی یہ ہے کہ صورتحال مزید سنگین ہونے سے قبل احتیاطی اور امدادی اقدامات کیے جائیں۔

ایم پی اے سریندر ولاسائی نے چیف سیکریٹری سندھ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو عوامی اہمیت اور ہنگامی نوعیت کا سمجھتے ہوئے متعلقہ محکموں کو فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے اور قانون و حکومتی پالیسی کے تحت تھرپارکر کے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا عمل شروع کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button