سپریم کورٹ کا منشیات کیس میں بڑا فیصلہ، عمر قید پانے والے دو ملزمان بری

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ نے منشیات کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اہم قانونی نکات پر تفصیلی رائے دی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مدعی پولیس افسر کا خود تفتیشی افسر (IO) بننا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس صورت میں غیر جانبدار تفتیش ممکن نہیں رہتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی کا کردار عموماً الزام ثابت کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے، جو منصفانہ تحقیقات کے تقاضوں سے متصادم ہے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کو ہر ملزم کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

فیصلے میں شواہد اور تفتیشی عمل پر سنگین سوالات اٹھائے گئے، جن میں کیس پراپرٹی کی محفوظ تحویل، لیبارٹری منتقلی اور ریکوری گواہوں کے دستخطوں کے واضح نہ ہونے جیسے نکات شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ معمولی شک کا فائدہ بھی ملزم کو دینا فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے، اور اس کیس میں نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا۔ نتیجتاً ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button