سندھ حکومت کا بڑا ریلیف پیکیج، موٹرسائیکل مالکان کو 2 ہزار روپے فیول سبسڈی دینے کا اعلان

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان سمیت سندھ کے عوام پر بھی پڑے۔ اس صورتحال میں حکومت سندھ نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تقریباً 65 لاکھ موٹرسائیکلیں ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہیں، اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جو افراد اپنی موٹرسائیکلیں اپنے نام پر رجسٹرڈ کروائیں گے، انہیں فیول سبسڈی دی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل مالکان کو دو ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ مہنگے پٹرول کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی سبسڈی فراہم کی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں ہونے والے حالیہ کابینہ اجلاس میں ماہی گیروں کے لیے ایک اہم ریلیف پیکیج کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ماہی گیروں کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا تھا، اس لیے کشتیوں کے سائز کے مطابق ماہی گیروں کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ بائیکیا رائیڈرز پر نافذ 5 فیصد ایس آر پی ٹیکس کو کم کرکے 2 فیصد کر دیا گیا ہے تاکہ اس شعبے سے وابستہ افراد کو بھی مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہمیشہ معاشرے کے ہر طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے، چاہے وہ زراعت سے وابستہ افراد ہوں، کاروباری طبقہ ہو یا ماہی گیر۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے جن سے براہِ راست عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔



