سندھ کے حصے کا پانی دوسرے صوبوں کو دیا جارہا ہے 1991 کے پانی کے معاھدے پر عمل نہ کرنے کی زمہ داری ارسا پر ہے ،ڈاکٹر عبدالواحد سومرو

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری رکارڈ و واقعات اور سابقہ ممبر قومی ڈاکٹر عبداواحد سومرو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک دفعہ پھر سندھ کو اپنے حصے کے پانی سے محروم رکھا جارہا ہے ارسا جان بوجھ کر سندھ میں قحط کی حالتیں پیدا کرنا چارہا ہے کوٹری ڈائون اسٹریم کے نیچے پانی کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے پنجاب سندھ کے حصے کا پانی لے رہا ہے سندھ میں خاص طور پر لاڑ والے ضلعوں میں زراعت کو بہت نقصان ہورہا ہے دریائے سندھ کا پانی طاقت کے زور پر چھینا جارہا ہے جسکی مثال چشمہ ڈیم جھلم لنک کینال تونسہ پنجند کینال کھول دیے گئے ہیں کینالوں کی غیر قانونی پانی کی فروخت بند کی جائے اس طریقے سے سندھ کے حصے کا پانی دوسرے صوبوں کو دیا جارہا ہے اور 1991 والے پانی کے معاھدے پر عمل نہ کرنے کی زمہ داری ارسا پر ہے انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت سندھ سے ہر سیزن میں ایسی صورتحال پیدا کی جاتی ہے جسکی وجہ سے زراعت کو بہت بڑا نقصان ہورہا ہے سندھ اپنے حصے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے صوبے کے آبادگار وقت سے پہلے فصل بو نہیں سکتے ٹھٹھہ بدین سجاول سمیت سمندری علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے دریا اور کینالوں میں جو پانی ہے اسے برادری کی بیناد پر تقسیم کیا جائے پپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو وفاقی حکومت کے سامنے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر اپنا سخت موقف اختیار کرنا چاھئے اور پانی کی قلت کا شکار ہونے والے علاقوں کے لیے ایک جامع پالیسی اختیار کرنا چاھئے



