پاکستان اسٹیل ملز میں 36 ٹن سامان چوری، سینیٹ کمیٹی کا سخت نوٹس

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز میں سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے 2025-26 کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی۔

ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر خالدہ عطیب، سینیٹر دنیش کمار، وزارت صنعت و پیداوار اور پاکستان اسٹیل ملز کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز میں چوری کے واقعات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی و آپریشنل امور کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی ارکان نے مؤثر سیکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے جدید نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کی سفارش بھی کی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز سے 36 ٹن سامان چوری ہونے کے کیس میں پولیس چالان جمع کرا چکی ہے، تاہم چوری شدہ سامان کی ریکوری تاحال زیر التوا ہے۔ ذیلی کمیٹی نے ریکوری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔

کنوینئر کمیٹی نے چوری میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت کارروائی اور ملوث افراد کا پاکستان اسٹیل ملز کی حدود میں داخلہ روکنے کی ہدایت کردی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز میں اس وقت ڈی ایس ایف اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں، تاہم وزارت دفاع کی جانب سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے اسٹیل ملز کے بڑے حصے میں سیکیورٹی کے مسائل موجود ہیں جبکہ اربوں روپے مالیت کی مشینری اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی شدید کمی ہے۔

کمیٹی نے جدید نگرانی کے کیمرے نصب کرنے، غیر مجاز داخلے کا ذریعہ بننے والی زیرِ زمین سرنگیں مستقل بند کرنے اور ایف آئی اے کو زیر التوا ریکوری کیس کی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر تجاوزات کے معاملے پر بھی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔ بریفنگ کے مطابق تجاوزات کے خلاف حالیہ آپریشن ناجائز قابضین کی مزاحمت کے بعد روک دیا گیا تھا۔

ذیلی کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر ملیر اور سیکریٹری داخلہ سندھ کی آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے قومی اثاثے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button