پی ٹی آئی میں چھوٹا سا انتشاری گروپ ہے، اسے ڈیل کرنا پڑے گا، سلمان اکرم راجا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے پارٹی کے اندر اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں ایک چھوٹا سا ’’انتشاری گروپ‘‘ موجود ہے جسے اب ڈیل کرنا پڑے گا، تاہم بڑے مقصد کے لیے پوری پارٹی متحد ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر وہ پارٹی چھوڑ بھی دیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ بانی پی ٹی آئی نے ان کی مرضی کے خلاف بھی انہیں ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے علی امین گنڈاپور کی جانب سے 40 کروڑ روپے دینے کے معاملے پر کہا کہ انہیں علم نہیں کہ یہ رقم کہاں دی گئی، علی امین گنڈاپور خود بتائیں کہ پیسے کس کو دیے۔
مشعال یوسفزئی سے معافی مانگنے کی تردید
سلمان اکرم راجا نے مشعال یوسفزئی سے معافی مانگنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل جھوٹ ہے کہ انہوں نے مشعال یوسفزئی سے معافی مانگی تھی۔
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بھی مشعال یوسفزئی کو فارغ کرنے کی بات کی تھی۔ سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے مشعال یوسفزئی کو ڈانٹا اور خبردار کیا کہ آئندہ بدکلامی نہیں کرنی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنیں، اور سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے دن سے ان کے اور سہیل آفریدی کے خلاف منظم سازش کی گئی۔
پارٹی کے بڑے مقصد پر توجہ دینا ہوگی
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پارٹی میں باکردار لوگ بھی موجود ہیں، تاہم انتشاری ٹولے کو اب ڈیل کرنا پڑے گا۔ بڑے مقصد کے لیے پوری پارٹی کو متحد رہنا ہوگا اور توجہ اصل مقصد پر مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرینز پیسے نہیں دیں گے تو کیا پارٹی چلانے کے لیے یونین کونسلرز سے کہا جائے گا؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہر ہفتے یہ سوال کیا جائے کہ آپ کیسز کے وقت کیوں نہیں آئے۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے مقدمات اور صحت کے علاوہ ان کے لیے کوئی چیز اہم نہیں۔ اگر وہ پارٹی کو محبت اور غصے سے نہیں چلا سکتے تو انہیں عہدے سے ہٹ جانا چاہیے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ان کے مؤقف سے اتفاق کرتی ہے۔
پی ٹی آئی پرتشدد تحریک نہیں چاہتی: سلمان اکرم راجا
انہوں نے کہا کہ تحریک چلانا ضروری ہے لیکن پی ٹی آئی پرتشدد تحریک نہیں چلانا چاہتی، آئین اور قانون کے مطابق اپنا حق مانگنا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کوشش تھی کہ معاملات پارٹی کے اندر ہی رہیں، لیکن تحریک کے دوران بلاوجہ الزام تراشی کی گئی۔ ان کے مطابق ٹکٹ دینے یا ٹھیکے دینے سے متعلق الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔



