عسکری اور سیاسی قیادت نے دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں، جبکہ احتجاج کرنا ہو تو پشاور، مردان، کراچی یا لاہور میں کیا جا سکتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور اور مردان میں کرے، کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو پشاور، کراچی یا لاہور میں احتجاج کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان یہ طے ہوا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف نہیں آنے چاہئیں۔ ان کے مطابق مذاکرات سے مقتدرہ کو کوئی سروکار نہیں، تاہم صدر اور وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے بھیجا ہے تو متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوتے، اگر ان کا کوئی مؤقف ہے تو وفاقی حکومت سے بات کریں۔ اپوزیشن سے بھی کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی طرف نہ جائیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے آپشنز آئین میں موجود ہیں، اگر کسی صوبے میں سکیورٹی صورتحال خراب ہو اور صوبائی حکومت تعاون نہ کرے تو وفاق کے پاس دیگر اقدامات پر غور کرنے کی گنجائش رہتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور اسے صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب حالات ناگزیر ہوجائیں۔

واضح رہے کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان سپیکر چیمبر میں مذاکرات ہوئے تھے، تاہم پہلے دور میں فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور آج دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button