تاریخی حجازریلوےکی بحالی میں اہم پیشرفت، سعودیہ اور ترکیے میں مفاہمتی یادداشتوں پردستخط

ریاض(جانوڈاٹ پی کے)سعودی عرب اورترکیے  نے  ریلوےکے  شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پردستخط کیے ہیں، جسے تاریخی حجاز ریلوےکی بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق  ریاض میں سعودی  وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجاسر اور ترکیے کے وزیر ٹرانسپورٹ و انفرااسٹرکچر عبدالقادر اوغلو  نے  ریلوے اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کے  لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ یہ مفاہمتی یادداشتیں وسیع تر علاقائی منصوبےکا حصہ ہیں، جس کا مقصد ترکیے، شام اور اردن کے ذریعے خلیجی ممالک کو یورپ سے ملانے والی زمینی تجارتی راہداری قائم کرنا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق یہ اقدام ترکیے، شام اور اردن کی وزارت ٹرانسپورٹ کے درمیان حالیہ رابطوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں آئندہ چار سے پانچ سال کے دوران سرحد پار نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ترکیے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب واقع ان ریلوے لائنوں کی بحالی کا کام شروع کر چکا ہے جو تقریباً 15 برس سے غیر فعال تھیں۔

منصوبے کے مطابق یہ راہداری ترکیے کے ریلوے نیٹ ورک کو جنوبی یورپ سے جوڑے گی، پھر شام کے شہروں حلب اور دمشق سے گزرتے ہوئے اردن کے دارالحکومت عمان اور بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہ عقبہ تک پہنچےگی۔ اس راستے کا مقصد خلیجی خطے اور  یورپ کے درمیان مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک تیز تر، کم خرچ اور زیادہ مؤثر متبادل فراہم کرنا ہے۔

حجاز  ریلوے کی بحالی کا منصوبہ

رواں  ماہ کے آغاز میں عبدالقادر اوغلو  نے تاریخی حجاز ریلوے کو جدید بنانے اور مستقبل میں اسے سلطنت  عمان تک توسیع دینے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا متبادل تجارتی راستہ قائم کرنا ہے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری نقل و حمل پر انحصار کم کرسکے۔

ترک  وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ  اس منصوبےکا ہدف  ریلوے لائن کو سلطنت عمان تک بڑھانا ہے تاکہ بحر ہند تک  رسائی حاصل کی جاسکے جو آبنائے ہرمز کا ایک اسٹریٹجک متبادل ثابت  ہوگا۔

حجاز  ریلوےکو سلطنت عثمانیہ کے آخری بااختیار خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کے دور حکومت میں 1900ء سے 1908ء کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا، یہ 20 ویں صدی کے آغاز میں سلطنت عثمانیہ کے  سب  سے نمایاں بنیادی  انفرااسٹرکچر کے منصوبوں میں شمار ہوتی تھی، اس منصوبے کو  برطانیہ اور فرانس کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ یہ منصوبہ ان کے سامراجی عزائم کے لیے خطرہ تصور کیا جارہا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button