روس کا خیال ہے ایران جنگ سے امریکا کمزور ہوا، پیوٹن یورپ میں کارروائیاں تیز کرسکتے ہیں،امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یہ سمجھتے ہیں کہ ایران جنگ سے امریکا کمزور ہوا ہے اور وہ یورپ میں کارروائیاں تیز کرسکتے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے اس ہفتے ماسکو کے پراسرار دورے سے قبل سامنے آنے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس کے خیال میں ایران جنگ کے باعث امریکا اس وقت کمزور ہو چکا ہے۔

 ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اسے یورپ میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے ایک بہترین موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

جان ریٹکلف کی اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے تاہم  امریکی اخبار کو ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سی آئی اے چیف نے ماسکو کو یوکرین کے خلاف جنگ میں شدت لانے سے گریز کرنے کا انتباہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام کے نتائج خود روس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

یہ خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کے خلاف 6 ماہ سے جاری جنگ کے باعث امریکی فوج کی تیاریوں میں کمی اور گولہ بارود کے شارٹ فال کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

طویل فوجی مہم کے نتیجے میں امریکا کے پاس ‘پیٹریاٹ’اور دیگر فضائی دفاعی نظاموں سمیت کئی اہم اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

ان ہتھیاروں میں ‘ٹوماہاک’ کروز میزائل اور کم فاصلے تک مار کرنے والے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) جیسے جدید ہتھیار بھی شامل ہیں جن کی یوکرین میں بھی شدید طلب ہے۔

اخبار کے مطابق روس نے یوکرین کے کم ہوتے ہوئے امریکی فضائی دفاعی نظاموں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اگرچہ یورپی ممالک نے کیف کو مزید انٹرسیپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان کی بڑی کھیپ اگلے سال تک ہی یوکرین پہنچ سکے گی۔

مشرقی یورپ میں نیٹو ممالک بالخصوص بالٹک ریاستوں نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور  ان کا خیال ہے کہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور مبینہ طور پر بھٹک کر آنے والے ڈرونز کی آڑ میں صدر پیوٹن خطے پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں یا مزید اشتعال انگیز دراندازیوں کی منظوری دے سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button