اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندق بنانے کی تجویز

لندن(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کی نگرانی کے لیے جنوبی اسرائیل کی کتزیعوت جیل کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندق بنانے کے منصوبے پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تجویز اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پیش کی تھی۔
وہ امریکا کی ریاست فلوریڈا میں قائم متنازع حراستی مرکز ایلیگیٹر الکاٹراز سے متاثر ہیں جو مگرمچھوں، ایلیگیٹرز اور دیگر خطرناک جانوروں سے گھری دلدلی علاقے میں واقع ہے۔
اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اسرائیلی حکومت نے نائل مگرمچھ کا محفوظ جنگلی جانور کا درجہ ختم کر دیا ہے۔
ماحولیاتی امور کی وزیر ایدیت سلمن نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے انھیں خصوصی انتظام کے تحت جنگلی جانور قرار دیا۔ جس کے بعد ان مگرمچھوں کی سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔
اسرائیلی جیل سروس نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور استعمال سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف چڑیا گھروں کا دورہ بھی شروع کر دیا ہے. اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ منصوبے پر عملی طور پر کب عمل درآمد ہوگا۔
فلسطینی قیدیوں کی تنظیم فلسطینی پرزنرز سوسائٹی کے سربراہ عبداللہ الزغاری نے کہا کہ جیلوں کے گرد مگرمچھوں کی خندق بنانے کی تجویز محض حفاظتی اقدام نہیں بلکہ فلسطینی قیدیوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کی ایک نئی شکل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کا مقصد قیدیوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تحفظ سے محروم ہیں۔
تنظیم کے ایک اور عہدیدار مظفر زوقان نے کہا کہ یہ اقدام سفاکیت کی نئی انتہا ہے اور اس سے فلسطینی قیدیوں کی ذہنی صحت مزید متاثر ہوگی کیونکہ وہ پہلے ہی بھوک، تشدد، تنہائی، طبی سہولتوں سے محرومی اور دیگر سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلسطینی پرزنرز سوسائٹی کی ترجمان امانی سرحنہ نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف نفسیاتی دباؤ اور ذہنی اذیت کے مختلف طریقے برسوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ مگرمچھوں کی خندق بنانے کی تجویز اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔
ان کے بقول اس پالیسی کا بنیادی مقصد فلسطینی قیدیوں کو جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مکمل طور پر توڑ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں فلسطینی قیدیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی کم پڑ گئے ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک سے متعلق جنیوا کنونشن کے اصولوں پر سنگین سوالات کھڑے کرے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی باضابطہ منظوری یا اس کے نفاذ کی حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا تاہم فلسطینی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تجویز کو روکنے اور فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری کردار ادا کرے۔



