سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ رات گئے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کروائی، جبکہ رپورٹ کے مندرجات اور سفارشات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے اور اس پر انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط موجود ہیں۔ کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں کو درپیش مسائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ میں پمز کے متعلقہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مختلف تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پمز انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز کے علاوہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں پمز ہسپتال میں علاج معالجے اور سہولیات کی ناکافی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ ہسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش وزیراعظم سے کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے رپورٹ کی روشنی میں فوری ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف جلد کارروائی کا امکان ہے۔



