سانحہ پمز کی ایف آئی آر 22 روز بعد بھی درج نہ ہوسکی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سانحہ پمز اسپتال کی ایف آئی آر 22 روز گزرنے کے بعد بھی درج نہ ہوسکی۔
وزیراعظم کی بنائی انکوائری کمیٹی نے 8 نامزد ملزمان کو بھی کلین چٹ دے دی تھی، 2 روز قبل سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت کے چیئرمین نے وزارت صحت سے ایف آئی آر کا پوچھا تھا۔
سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے مقدمہ درج نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ سانحہ پمز کی ایف آئی آر اب تک کیوں درج نہیں ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ کیا جب بچوں کے ماں باپ بھی مرجائیں گے تب کارروائی کرو گے؟
سینیٹر خلیل طاہر نے کہا پمز سانحے میں کون طاقت ور شخص ملوث ہے، جس کو بچایا جارہا ہے؟
اسلام آباد پولیس کے ایس پی ذیشان شاہ نے کہا کہ پمز واقعے پر ہائی پروفائل انکوائری کررہے ہیں، ایف آئی آر سے بھی یہی ہوتا ہے۔
سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ کیا مجرمانہ غفلت پر 3 الفاظ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی؟ ای ڈی پمز کا نام فہرست سے غائب ہونا تشویشناک ہے، ای ڈی پمز کون ہیں جنھیں بچایا جارہا ہے۔
سینیٹر ثمینہ زہری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم رپورٹ سے مطمئن ہوں گے لیکن وہ نہیں، پتا کرنا چاہتے ہیں کہ سانحہ پمز کے پیچھے کون ہے؟



