پمز میں14معصوم بچوں کی موت سے پہلے خطرے کی گھنٹیاں بجتی رہیں، سابق انتظامیہ کی سنگین غفلت بے نقاب

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پمز ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے حوالے سے سابق انتظامیہ کی مبینہ مجرمانہ غفلت کا کچا چٹھا کھل گیا۔ سامنے آنے والی دستاویزات نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کے بارے میں پمز انتظامیہ کو برسوں سے مسلسل خبردار کیا جاتا رہا، مگر مبینہ طور پر کوئی مؤثر اقدام نہ کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق سی ڈی اے کے متعلقہ محکمے کی جانب سے پمز انتظامیہ کو آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے پر متعدد مرتبہ نوٹسز جاری کیے گئے۔ انتظامیہ کو جرمانے اور عمارت سیل کرنے تک کی وارننگ دی گئی، لیکن اس کے باوجود حفاظتی انتظامات بہتر نہ کیے گئے۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2018 سے ناکارہ فائر سیفٹی نظام کے بارے میں پمز انتظامیہ کو مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا۔ فائر سروسز کی جانب سے واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ کسی بھی آتشزدگی یا بڑے سانحے کی صورت میں اس کی ذمہ داری اسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
خطرے کی پہلی گھنٹی 2018 میں بجی
فائر سیفٹی ونگ نے 15 فروری 2018 کو پمز کو تفصیلی فائر آڈٹ رپورٹ ارسال کی، جس میں حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی مئی 2018 اور جولائی 2019 میں نوٹسز جاری کیے گئے، مگر دستاویزات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مطلوبہ اقدامات نہ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2023 میں ایک اور الرٹ جاری کیا گیا جس میں ہسپتال میں بند ایمرجنسی راستوں اور کھلی وائرنگ سمیت متعدد خطرناک خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
تین ماہ کی مہلت بھی بے اثر رہی
دستاویزات کے مطابق 9 مئی 2024 کو پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی پلان اور فائر ڈرلز کے انعقاد کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی، تاہم صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہ آسکی۔
معاملہ یہاں تک پہنچا کہ 10 نومبر 2025 کے فائنل نوٹس میں حفاظتی اقدامات نہ کرنے کو دانستہ غفلت قرار دیا گیا اور انتظامیہ کو واضح طور پر خبردار کیا گیا۔
نوٹسز اعلیٰ حکام تک بھی پہنچتے رہے
دستاویزات کے مطابق تمام وارننگ نوٹسز پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو موصول کرائے گئے، جبکہ ان نوٹسز کی نقول وزارت صحت، کیڈ، ایم سی آئی اور سی ڈی اے کو بھی ارسال کی گئیں۔
فائر سروسز نے پمز انتظامیہ کو جرمانے اور عمارت سیل کرنے کی وارننگ بھی دی تھی، تاہم اس کے باوجود فائر سیفٹی انتظامات مکمل نہ کیے جانے کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اب سامنے آنے والی دستاویزات نے ایک انتہائی سنگین سوال کھڑا کردیا ہے کہ جب برسوں پہلے ہسپتال میں آگ کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کردی گئی تھی اور انتظامیہ کو بار بار خبردار بھی کیا گیا تھا تو بروقت حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟
دستاویزات کے مطابق خطرے سے متعلق انتباہات، فائر آڈٹ رپورٹس اور نوٹسز کے باوجود اگر خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو 14 معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد سابق انتظامیہ کی ذمہ داری کا تعین مزید اہم ہوگیا ہے۔
پمز سانحے کے پس منظر میں اب یہ معاملہ محض فائر سیفٹی کی کوتاہی نہیں بلکہ برسوں تک جاری رہنے والی مبینہ غفلت، نظرانداز کیے گئے انتباہات اور ذمہ داروں کے تعین کا سنگین سوال بن گیا ہے۔



