فیزنٹ آئی لینڈ پر 6 ماہ اسپین اور 6 ماہ فرانس کی حکومت رہتی ہے

میڈرڈ(جانوڈاٹ پی کے)سرحدیں موجودہ عہد میں جغرافیائی حد کا تعین کرتی ہیں یعنی ممالک اور لوگوں کو دوسرے ملک سے الگ کرتی ہیں۔

سرحدوں سے تنازعات اور تعاون دونوں کا امکان بڑھتا ہے۔

مگر کچھ سرحدیں ایسی ہوتی ہیں جو بہت زیادہ منفرد ہوتی ہیں اور ایسا ہی ایک جزیرہ 2 یورپی ممالک کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔

فرانس اور اسپین کے درمیان بہنے والے دریائے Bidasoa میں واقع یہ چھوٹا سا جزیرہ بہت زیادہ منفرد ہے۔

فیزنٹ آئی لینڈ نامی یہ چھوٹا سا جزیرہ شاہی شادیوں، امن معاہدوں اور دنیا کے ایک عجیب ترین سرحدی معاہدے کا گھر ہے۔

جی ہاں واقعی یہ ایسا جزیرہ ہے جس کی قومیت ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہو جاتی ہے۔

1659 سے اس جزیرے پر اسپین اور فرانس دونوں ممالک حکومت کر رہے ہیں۔

6 ماہ تک وہاں اسپین کی حکومت ہوتی ہے جس کے بعد اگلے 6 ماہ تک وہ فرانس کے زیرتحت رہتا ہے۔

350 برسوں سے زائد عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ جزیرہ اتنا چھوٹا ہے کہ آپ اس کے گرد ایک منٹ کے اندر دوڑ لگا سکتے ہیں۔

یہ انوکھا معاہدہ 1659 میں ہوا جسے Pyrenees ٹریٹی کا نام دیا گیا جس سے فرانس اور اسپین کے درمیان ایک طویل تنازع ختم ہوا۔

فزینٹ آئی لینڈ کو غیر جانبدار مقام قرار دیا گیا جہاں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ملاقات کرکے معاہدے پر دستخط کیے۔

بعد ازاں وہاں فرانس کے بادشاہ کی اسپین کی شہزادی سے شادی بھی ہوئی تاکہ امن کو بحال کیا جاسکے۔

دونوں ممالک میں سے کوئی بھی اس جزیرے سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا تو انہوں نے ایک سادہ مگر غیرمعمولی معاہدہ کیا اور ہر 6 ماہ بعد وہاں کی حکومت ایک دوسرے کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔

صدیوں سے زائد عرصے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

ویسے آپ یا کوئی بھی سیاح اس جزیرے پر نہیں جاسکتا اور اسے عام افراد کے لیے بند رکھا گیا ہے۔

وہاں صرف اسپین اور فرانس کے سرکاری عہدیداران کو ہی جانے کی اجازت ہے جو اکثر جزیرے کو ایک دوسرے کو دینے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔

البتہ اسپین کے علاقے Irun یا فرانس کے علاقے Hendaye سے آپ اس جزیرے کو دریا کے درمیان دیکھ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button