پیٹرولیم لیوی آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں، وزارت خزانہ نے واضح کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)پیٹرولیم لیوی پر بڑا وضاحتی بیان، وزارت خزانہ نے واضح کردیا کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارت خزانہ کا نہیں، پوری حکومت کا ہے
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق پیدا ہونے والے بعض تاثر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارت خزانہ کا نہیں بلکہ پوری حکومت کا پروگرام ہے اور اس پر عملدرآمد میں وفاقی و صوبائی ادارے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے آمدن حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں اور لیوی سے متعلق اصلاحات بھی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہیں۔ تاہم پیٹرولیم لیوی پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی آمدن بڑھانا اور ٹیکس دائرہ وسیع کرنا آئی ایم ایف پروگرام کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ پروگرام کے تحت عالمی قیمتوں کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدہ ردوبدل بھی شامل ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اضافی کاربن لیوی کا نفاذ بھی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کم شرح نمو کو صرف پیٹرولیم لیوی سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ ان معاشی اشاریوں پر ملکی و عالمی حالات سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق مالی استحکام کو معاشی ترقی سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور آئی ایم ایف پروگرام صرف مالی اہداف اور اعدادوشمار تک محدود نہیں بلکہ اس میں کم آمدن والے طبقے کے تحفظ کے لیے سماجی اقدامات بھی شامل ہیں۔وزارت خزانہ نے کہا کہ ٹارگٹڈ پیٹرول ریلیف بھی کم آمدن والے طبقے کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں شامل ہے۔



